.

القدس کو صہیونی دارالحکومت قرار دینے پرفلسطین میں نئی انتفاضہ کا آغاز

ملک گیر احتجاج، پرتشدد مظاہروں میں بیسیوں افراد زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے کے بعد فلسطین میں ایک نئی تحریک انتفاضہ شروع ہوگئی ہے۔ کل جمعرات کو ملک گیر عوامی احتجاجی مظاہروں کےدوران کئی مقامات پر اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں تصادم ہوا۔ پر تشدد مظاہروں میں کم سے کم 104 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعرات کو مقبوضہ غرب اردن، بیت المقدس اور غزہ کی پٹی کے علاوہ دوسرے فلسطینی شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین سخت مشتعل اور غصے میں تھے۔ انہوں ںے اسرائیلی فورسز پر سنگ باری کی جب کہ قابض فوج نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے روایتی طریقے اپناتے ہوئے ان پر زہریلی آنسوگیس کی شیلنگ کی، ربڑ کی گولیاں چلائیں جب کہ براہ راست فائرنگ بھی کی گئی۔

غرب اردن کے شہروں الخلیل، نابلس، بیت لحم، مشرقی بیت القدس اور رام اللہ میں جگہ جگہ اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کےدرمیان تصادم ہوا۔ جھڑپیں رات گئے تک جار ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق غرب اردن کے شمالی شہروں طولکرم اور قلقیلیہ میں اسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین میں دن بھر آنکھ مچولی جاری رہی۔ جنوبی شہر بیت لحم اور وسطی علاقے رام اللہ میں بھی اسرائیلی فوج اور فلسطینی مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں دسیوں افراد زخمی ہوئے۔ اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس کی شیلنگ کی، دھاتی گولیاں، صوتی بم اور براہ فائرنگ بھی کی گئی۔

جمعرات کو امریکی اقدام کے خلاف احتجاج اور مظاہروں کے ساتھ نظام زندگی مفلوج رہا، تعلیمی ادارے اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہین۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے متنازع اعلان کے بعد اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے ملک گیر احتجاج کی کال دی تھی۔ حماس نے آج جمعہ کو بھی یوم الغضب کا اعلان کیا ہے۔

فلسطینیوں کو مظاہروں سے روکنے کے لیے القدس، غرب اردن اور غزہ کی پٹی کے اطراف میں ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی فوج تعینات کی گئی ہے۔