.

امن منصوبہ تیاری کے مرحلے میں ہے ، فلسطینیوں کو راضی کر دے گا : ٹرمپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ذمّے دار ذرائع کے مطابق امریکی صدر نے جب فلسطینی صدر محمود عباس کو اس بات سے آگاہ کیا کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ساتھ ہی انہوں نے محمود عباس کو یہ بھی باور کرایا کہ ان کے پاس ایک امن منصوبہ تیاری کے مراحل میں ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کو راضی کرنا ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ ٹرمپ کی اس بات کا مقصد بیت المقدس کے حوالے سے اپنے فیصلے کے اثرات پر روک لگانا ہے جو اس مسئلے پر طویل عرصے سے قائم امریکی پالیسی کی مخالفت کرتا ہے۔

ٹرمپ نے بیت المقدس سے متعلق اپنے حیران کن اعلان سے ایک روز قبل منگل کو عباس سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور اس دوران وہائٹ ہاؤس کے مشیروں کی اُن کوششوں پر روشنی ڈالی جو وہ ایک امن منصوبہ وضع کرنے کے واسطے کر رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ منصوبہ 2018 کی پہلی ششماہی کے دوران پیش کیا جائے گا۔ تاہم ٹرمپ کے اعلان کے بعد مشرق وسطی پر چھائے غم و غصے کے سبب اب اس پیش رفت کا ممکن ہونا مشکل نظر آ رہا ہے۔

فلسطینیوں کے مطابق اسرائیل کے حق میں وسیع پیمانے پر جانب داری کے بعد امریکا کے لیے شفافیت کے ساتھ بطور مصالحت کار کام کرنا مشکل ہو جائے گا۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کُشنر کی قیادت میں امریکی صدر کی ٹیم ایک ایسا منصوبہ وضع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے گی جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مذاکرات کے دوبارہ شروع ہونے کے لیے بنیاد ثابت ہو۔ اس امید کے ساتھ کہ فلسطینیوں کے ساتھ سفارتی رابطوں میں تعطل زیادہ عرصے نہ رہے۔

تاہم ایک امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ "اگر فلسطینی اب بھی یہ کہتے رہے کہ وہ بات چیت ہر گز نہیں کریں گے تو ایسی صورت میں ہم بھی منصوبہ پیش نہیں کریں گے"۔

واشنگٹن کے بڑے مغربی اور عرب حلیفوں نے خبردار کیا ہے کہ بیت المقدس کے حوالے سے ٹرمپ کا فیصلہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان امن کے "حتمی معاہدے" کو یقینی بنانے کے لیے جاری کوششوں کو ناکامی سے دوچار کر سکتا ہے۔
البتہ ذمے داروں کا کہنا ہے کہ بات چیت کے دائرہ کار میں تمام بڑے معاملات زیر بحث آئیں گے۔ ان میں بیت المقدس ، سرحدی حدود ، سکیورٹی ، مقبوضہ اراضی پر یہودی بستیوں کا مستقبل اور فسلطینی پناہ گزینوں کا انجام شامل ہے۔

اہم تصفیہ

ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے عباس کو آگاہ کیا کہ حتمی امن منصوبہ فلسطینیوں کے سامنے ایک اہم تصفیہ پیش کرے گا جو انہیں راضی کر دے گا۔ تاہم امریکی صدر نے تفصیلات پیش نہیں کیں۔

ایک فلسطینی ذمے دار نے بتایا ہے کہ محمود عباس نے ٹرمپ کو جواب میں کہا کہ کسی بھی امن عمل میں یہ امر نا گزیر ہے کہ مشرقی بیت المقدس مستقبل کی فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہو۔ اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر کے بعد ازاں اسے ضم کر لیا تھا۔ تاہم عالمی برادری نے اس فیصلے کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا۔

ایک سینئر امریکی ذمے دار کے مطابق ٹرمپ نے عباس کو بتایا کہ وہ ذاتی طور پر معاملات کو زیر بحث لانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ نے عباس کو وہائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت بھی دی تاہم دورے کا وقت واضح نہیں ہوا۔

فلسطینیوں کی اس حوالے سے تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے کسی بھی امن منصوبے میں ان کا حق غصب کر لیا جائے گا۔ ان اندیشوں کو ٹرمپ کی جانب سے سرکاری طور پر بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد مزید تقویت ملی ہے۔

امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے میں جیرڈ کُشنر نے ٹرمپ کی معاونت کی۔ تاہم وہائٹ ہاؤس کے ایک ذمے دار کا کہنا ہے کہ کُشنر کی ٹیم یہ سمجھتی ہے کہ بیت المقدس کے فیصلے کے سبب برپا ہونے والا غم و غصّہ آخر کار کم ہو جائے گا۔

مذکورہ ذمے دار کے مطابق یہ منصوبہ جو جامع ہونے کے ساتھ تمام سابقہ امریکی انتظامیہ کے وضع کردہ دائرہ کار سے متجاوز ہو گا ،،، آئندہ برس کے وسط سے قبل منظر عام پر آ جائے گا۔

ذمے دار کا کہنا ہے کہ عباس کے ساتھ گفتگو میں ٹرمپ کا اصرار رہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ جانبین کے درمیان اس معاملے یا دیگر معاملات کے حوالے سے مستقبل میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے کو ہائی جیک کر لیا گیا ہے۔

ایک امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ فلسطینی اس حد تک کمزور پوزیشن میں ہیں کہ ان کے سامنے آخر میں امریکا کے زیر قیادت امن کوششوں میں اپنی شرکت کا سلسلہ جاری رکھنے کے سوا کوئی چارہ کار نہ ہو گا۔

امریکی ذمے دار کے مطابق ٹرمپ کے معاونین فلسطینیوں کو قائل کرنے کے لیے یہ حجت پیش کریں گے کہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے بعد امریکی صدر زیادہ قوت اور زور کے ساتھ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو سے رعائتیں اور دست برداری کے مطالبے کی پوزیشن میں ہوں گے۔