.

جمعے کو "یومِ غضب" کے موقع پر اسرائیل کے سخت سکیورٹی اقدامات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قابض اسرائیلی فوج نے فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں کے اندیشے کے سبب مغربی کنارے میں نمازِ جمعہ کے بعد مزید نفری پر مشتمل کُمک تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اقوام متحدہ میں فلسطینی ریاست کے مستقل مندوب ریاض منصور نے انکشاف کیا ہے کہ اُن کے ملک نے سلامتی کونسل میں امریکا کے خلاف باقاعدہ طور پر شکایت پیش کر دی ہے۔ یہ اقدام ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔

فلسطینیوں کی جانب سے اوسلو معاہدے پر نظرِ ثانی کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔

ادھر وہائٹ ہاؤس نے کہا ہے کہ فلسطینی صدر ابو مازن (محمود عباس) اور ٹرمپ کے نائب مائیک پِنس کے درمیان ملاقات منسوخ ہونے کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

دوسری جانب واشنگٹن کے حالیہ فیصلے پر احتجاج کے لیے جمعے کے روز مظاہروں کے اندیشے کے سبب اسرائیل نے سکیورٹی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں بیت المقدس میں اسرائیلی قابض حکام نے فلسطینیوں کے ردود عمل کے خوف سے سکیورٹی فورسز کے یونٹوں کو شہر کے مختلف حصوں میں پھیلا دیا ہے۔

مبصرین کے مطابق اسرائیل کی جانب سے میڈیا کے ذریعے امریکی فیصلے کے اثرات پر روشنی ڈالنے کا مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اسرائیلی عوام کی توجہ وزیر اعظم بنیامین نیتنیاہو اور ان کے بعض وزراء کے خلاف بدعنوانی کے معاملات سے ہٹا کر دوسری جانب مبذول کرائی جائے۔

ادھر فلسطینی جانب فتح تحریک کی مرکزی کمیٹی کے رکن محمد اشتیہ نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی قیادت اب سر جوڑ کر اوسلو معاہدے پر نظرِ ثانی کرے گی جس میں بیت المقدس شہر کو حتمی حل کے معاملات میں شامل کیا گیا تھا۔ محمد اشتیہ کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ اعلان نے اس موضوع کو مذکورہ معاملات سے خارج کر دیا ہے۔

ایک دوسرے ردّ عمل میں فتح تحریک کی مرکزی کمیٹی کے رکن جبریل الرجوب کا کہنا ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس امریکی نائب صدر سے ملاقات نہیں کریں گے جنہوں نے رواں ماہ کی انیس تاریخ کو بیت لحم میں فلسطینی صدر سے ملاقات کی درخواست کی تھی۔
اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ علاقائی اور بین الاقوامی اندیشوں کے بیچ سیاسی اور عوامی سطح پر فلسطینی غم و غصّے کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔