.

حوثیوں کا صالح کی لاش کو صلیبِ احمر کے حوالے کرنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغی ملیشیا نے جمعرات کے روز صلیب احمر بین الاقوامی تنظیم کی اُس درخواست کو مسترد کر دیا جس میں سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کی لاش حوالے کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔ سابق صدر کو حوثی باغیوں نے پیر کے روز ہلاک کر دیا تھا۔

صنعاء میں انسانی حقوق سے متعلق ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ صلیب احمر اور یمن میں کام کرنے والی کئی دیگر بین الاقوامی تنظیموں نے حوثیوں سے صالح اور ان کی جماعت کے متعدد رہ نماوں کی لاشوں کا مطالبہ کیا تھا تاہم حوثیوں نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔

یمنی اخباری ویب سائٹوں نے ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ حوثیوں نے صالح کی لاش حوالے نہ کرنے کا جواز اس دعوے کو بنایا ہے کہ استغاثہ کی جانب سے واقعے کی تحقیق کی جا رہی ہیں۔

اس سے قبل موصول ہونے والی معلومات کے مطابق حوثی ملیشیا نے صالح کی لاش حوالے کرنے کے لیے یہ شرائط عائد کی تھیں کہ سابق صدر کی عوامی سطح پر تدفین اور جنازہ نہیں ہو گا ، ان کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جائے گا اور ان کی تدفین صنعاء کی مسجد الصالح کے باغیچے میں نہیں بلکہ صالح کے آبائی علاقے سنحان میں عمل میں لائی جائے گی ۔

حوثی ملیشیا نے بدھ کے روز صنعاء کی سڑکوں پر مظاہرہ کرنے والی خواتین پر دھاوا بول دیا۔ ان کو لاٹھی چارج اور براہ راست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ خواتین سابق صدر کی لاش حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ اس دوران درجنوں خواتین کو گرفتار کر کے نامعلوم مقام منتقل کر دیا گیا۔