.

القدس بارے ٹرمپ کا فیصلہ انتہا پسندوں کے لیے تحفہ ہے: امارات

امریکی اقدام سے خطے میں نفرت میں اضافہ ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا اقدام انتہا پسندوں کے لیے تحفہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق خلیجی ریاست بحرین کے دارالحکومت منامہ میں ایک سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ کا القدس کو اسرائیل کے حوالے کرنے کا اعلان انتہا پسندوں کی خدمت ہے۔ ٹرمپ کے اقدام سے خطے میں نفرت میں اضافہ ہوگا اور انتہا پسندوں کو اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے کا موقع ملے گا۔

خیال رہے کہ چھ دسمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بل کی منظوری دی تھی جس میں فلسطینی شہر مقبوضہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ٹرمپ کے اس اقدام پر عرب ممالک اور مسلمان ممالک کی طرف سے سخت رد عمل سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ القدس فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان سب سے مشکل حل طلب تنازع ہے۔

اسرائیل متحدہ القدس کو اپنا ابدی دارالحکومت قرار دینے کا دعویٰ کرتا ہے جب کہ فلسطینی مشرقی بیت المقدس کو مجوزہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

گذشتہ روز سلامتی کونسل کے مندوبین کے اجلاس میں بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو مسترد کردیا گیا تھا۔ سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں چین، روس، مصر اور یورپی ممالک کے مندوبین نے مشرقی بیت المقدس کو فلسطینی اراضی کا حصہ قرار دیا اور القدس کی حیثیت طے کرنے کے لیے فریقین کے درمیان بات چیت پر زور دیا ہے۔