.

محمود المصری ٹرمپ کے اقدام کو مسترد کرنے والا پہلا شہید

المصری کو غزہ کی پٹی میں احتجاج کے دوران صہیونی فوج نے گولیاں ماریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دالحکومت قرار دیے جانے کے بعد فلسطین بھر میں پر تشدد مظاہرے شروع ہوگئے ہیں۔ گذشتہ روز فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں خان یونس کے مقام پر ٹرمپ کے اقدام کے خلاف احتجاج کرنے والے فلسطینیوں پر گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں 30 سالہ فلسطینی شہری شہید ہوگیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تیس سالہ محمود المصری ٹرمپ کے اقدام کو اپنی جان اور خون سے مسترد کرنے والا پہلا فلسطینی ہے۔

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ خان یونس میں مظاہروں میں حصہ لینے والے مظاہرین کو صہیونی فوج نے گولیوں سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تیس سالہ ایک فلسطینی نوجوان محمود المصری جام شہادت نوش کرگیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ بدھ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے بعد فلسطینی تنظیموں نے تین روز کے لیے ملک گیر یوم الغضب منانے کی اپیل کی تھی۔ گذشتہ روز نماز جمعہ کے اجتماعات کے بعد غزہ سمیت فلسطین کے دوسرے شہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے ہوئے۔ غزہ ہونے والے مظاہرے کے دوران ایک شہری شہید اور دسیوں زخمی ہوئے ہیں۔

قابض اسرائیلی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیےاشک آور گیس، رھڑ کی گولیاں چلانے کے ساتھ ان پر براہ راست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کم سے کم 250 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

فلسطینیوں کی تحریک انتفاضہ کی حمایت میں سوشل میڈیا پر بھی زور وشور سے مہم جاری ہے۔ گذشتہ روز غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینی نوجوان کی تصویر اور شہادت کے وقت کی ویڈیوز کو ہزاروں بار شئیر کیا گیا ہے۔ شہید فلسطینی نوجوان کے بارے میں مزید معلومات نہیں مل سکیں تاہم سوشل میڈیا پر اس کے والد کا نام عبدالحمید بیان کیا جاتا ہے۔