.

بائیکاٹ کے 6 ماہ بعد مصر میں قطر کی سرمایہ کاری منجمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دوحہ پر دہشت گردی کی سپورٹ کے الزام کی بنیاد پر سعودی عرب ، بحرین ، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب سے قطر کے بائیکاٹ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں۔ اس عرصے میں قطر کی معیشت کو تمام سیکٹروں میں بھاری خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

مصر میں قطر کی سرمایہ کاری کو منجمد کر دیا گیا ہے۔ بالخصوص پراپرٹی سیکٹر میں جہاں تقریبا تمام تر سرمایہ کاری "الدیار" کمپنی سے متعلق ہے۔ کمپنی نے گزشتہ برسوں میں نیو قاہرہ اور بحر احمر پر تقریبا 4 کروڑ مربع میٹر زمین حاصل کی۔ تاہم وہ منصوبوں کی تکمیل کے ٹائم ٹیبل پر عمل درامد نہیں کر سکی۔ اس کے نتیجے میں مصری حکومت نے اس اراضی کو واپس لینے کی دھمکی دے دی۔ مذکورہ قطری کمپنی نے ان دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے کبھی تو تنازعات کے تصفیے کی کمیٹی کا سہارا لیا اور کبھی بین الاقوامی سطح پر فیصلے کی طرف جانے کی دھمکی دی۔

بائیکاٹ کو چھ ماہ گزر جانے کے باوجود نہ تو مصری حکومت اس اراضی کو واپس لینے کے لیے متحرک ہوئی اور نہ الدیار کمپنی نے بین الاقوامی سطح پر فیصلہ کرانے کا سہارا لیا۔ البتہ اب کمپنی کی سرمایہ کاری کو منجمد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ مصر میں الاخوان المسلمین کے اقتدار میں آنے پر قطر کی سرمایہ کاری کے حوالے سے نمایاں سرگرمیاں دیکھنے میں آئی تھیں تاہم الاخوان کی حکومت ختم ہونے کے ساتھ ہی اس سرمایہ کاری میں بڑے پیمانے پر سست روی آ گئی۔

مصر میں اس وقت سب سے زیادہ مسائل کا سامنا الدیار کمپنی کو ہے جو پراپرٹی سیکٹر میں قطری حکومت کا بازو ہے۔

اخباری رپورٹوں کے مطابق قطر کی الدیار کمپنی نے پراپرٹی سیکٹر میں سرمایہ کاری کی کمپنی "ایسٹ گیٹ نیو کائرو" میں کام کرنے والے ملازمین کو فارغ کر دیا ہے اور اب نیو قاہرہ میں کمپنی کے صدر دفتر میں صرف پانچ ملازمین باقی رہ گئے ہیں۔