.

سعودی عرب کے شمال میں عظیم الجثّہ پہاڑ کی باقیات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شمال میں حائل کے علاقے میں واقع گہرے بُھورے رنگ کے چٹانی سُتونوں کو "غرامیل" کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ سیاحوں اور مستشرقین نے انہیں مختلف نام دیے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ یہ غرامیل ایک عظیم الجُثّہ پہاڑ کی باقیات ہیں۔ صحراؤں میں گُھومنے والی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہوں نے "اس جیسی کوئی زمین نہیں دیکھی۔ یہاں پر انسان ایسا محسوس کرتا ہے گویا کہ کسی دوسرے سیارے پر پہنچ گیا ہو۔ یہاں پر گہری بھُوری رنگ کی چٹانیں کھجور کے تنوں کی طرح نصب نظر آتی ہیں۔ یہ منظر ایک غمگین مگر انتہائی حسین نظارہ پیش کرتا ہے"۔

کنگ سعود یونیورسٹی میں ارضیات کے پروفیسر ڈاکٹر عبدالعزیز بن لعبون نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "غرامیل" ایک بہت بڑے پہاڑ کا حصّہ ہیں تاہم اب وہ سُتونوں کی شکل میں تِّتر بِتّر ہو گئے ہیں۔ یہ آئرن آکسائڈ پر مشتمل ہیں جس نے انہیں ماحولیات کی تبدیلی اور رگڑ کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا دیا۔ ان میں بعض غرامیل کے جھڑنے کا سلسلہ ہزاروں سالوں سے جاری ہے۔

تقریبا 141 برس پہلے شام کے ایک حج قافلے کے ہمراہ سفر میں آنے والے انگریز شاعر اور سیاح چارلس ڈاؤٹی نے ان غرامیل کا ذکر اپنے ایک سفرنامے پر مشتمل کتاب میں کیا ہے۔

علاوہ ازیں شام کے علامہ ، خطیب اور مصنف شیخ محمد بہجت البیطار نے 1920ء میں ان غرامیل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ "یہ ایک دوسرے سے علاحدہ مختلف شکلوں اور حجم کی پہاڑیاں ہیں جو ستونوں کی طرح نصب نظر آتے ہیں۔

علاقے کے رہنے والوں کا کہنا ہے کہ بھیڑیوں کے بکثرت پائے جانے کے سبب ان کھلے مقامات پر رات گزارنا انتہائی خطرناک ہے۔ اس واسطے یہاں گھومنے کے لیے آنے والے افراد پہاڑی علاقے سے دُور کسی محفوظ خیمے میں رات گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

غرامیل کے بہت سے عاشق بھی پائے جاتے ہیں جو وقتا فوقتا یہاں کا دورہ کر کے خوب صورت مناظر کو اپنے کیمروں کی آنکھ میں محفوظ کر لیتے ہیں۔ اس طرح کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئی ہیں جن میں غرامیل کو ستاروں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔