.

عرب لیگ کا امریکا سے القدس پر فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

امریکی اقدام کے ردعمل میں خطے بھر میں تشدد میں اور اضافہ ہو جائے گا: اعلامیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے امریکا سے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے اس شہر میں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس اقدام سے مشرق وسطیٰ کے پورے خطے میں تشدد میں اور اضافہ ہو جائے گا۔

عرب لیگ نے مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے کئی گھنٹے کے ہنگامی اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا ہے۔اس میں عرب وزرائے خارجہ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان بین الاقوامی قانون کی خطرناک خلاف ورزی ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں ہے۔

قبل ازیں مصر کے قبطی چرچ کے روحانی پیشوا پوپ تواضروس دوم نے احتجاج کے طور پر امریکی نائب صدر مائیک پینس سے قاہرہ میں ان کے دورے کے موقع پر ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قبطی چرچ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے وقت لاکھوں عرب عوام کے احساسات اور امنگوں کا خیال نہیں کیا ہے۔چرچ کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے پیش نظر پینس کا ان کے دورہ ٔمصر کے موقع پر استقبال نہیں کیا جائے گا۔

مائیک پینس دسمبر کے دوسرے پندرھواڑے میں کرسمس سے قبل مصر اور اسرائیل کے دورے پر آنے والے ہیں۔مصر کی قدیم دانش گاہ جامعہ الازہر کے سربراہ احمد الطیب نے بھی مائیک پینس سے اس دورے کے موقع پر ملاقات سے انکار کردیا ہے۔

امریکی صدر کے القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے فیصلے کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور جامعہ الازہر کی مسجد میں نماز جمعہ کے بعد سیکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔تاہم سکیورٹی فورسز نے انھیں شہر کے مرکز کی جانب جانے سے روک دیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو ایک نشری تقریر میں مسلم اور عرب دنیا ، عالمی لیڈروں اور اداروں کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا۔ان کے اس فیصلے پر فلسطینی اور ان کی حمایتی مسلم دنیا اور عالمی برادری درست طور پر یہ سمجھتی ہے کہ امریکی صدر نے کھلے بندوں اسرائیل کی طرف داری کی ہے۔

عالمی لیڈروں نے ان کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کے دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے اعلان پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کے مشرق وسطیٰ کے خطے میں امن وسلامتی پر منفی اثرات مرتب ہونے کے علاوہ عالمی سطح پر بھی سنگین مضمرات ہوں گے۔

امریکا کے قریبی اتحادی یورپی ممالک نے بھی صدر ٹرمپ کو اس فیصلے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ ٹرمپ نے بلا ضرورت پہلے سے بدامنی کا شکار خطے میں ایک نیا تنازع کھڑا کردیا ہے۔