.

فلسطینی صدر اور قبطی پوپ امریکی نائب صدر سے ملاقات نہیں کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس سے متعلق حالیہ متنازع فیصلے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس امریکی نائب صدر مائیک پینس کے ساتھ اسی ماہ ہونے والی طے شدہ ملاقات نہیں کریں گے۔

فلسطینی صدر کے سفارتی امور سے متعلق سفیر مجدی الخالدی نے کہا ہے کہ ’’ امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے تمام حدیں ہی عبور کر لی ہیں‘‘ ۔

فلسطینی جماعت فتح کے ایک سینیر عہدہ دار جبریل رجوب نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وائٹ ہاؤس کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے کے بعد مائیک پینس کا اب فلسطین میں خیر مقدم نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ ’’ صدرمحمود عباس مائیک پینس کے مقبوضہ بیت المقدس کے بارے میں حالیہ بیانات کی بنا پر بھی ملاقات نہیں کریں گے‘‘۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے خبردار کیا تھا کہ اگر محمود عباس اور مائیک پینس کے درمیان طے شدہ ملاقات منسوخ کی جاتی ہے تو اس کے ’’ردعمل میں مسائل‘‘ پیدا ہوجائیں گے اور اس کے منفی مضمرات ہوسکتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ بدھ کو خود امریکا کی برسوں پرانی پالیسی کو تیاگتے ہوئے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کر لیا تھا ۔ان کے اس فیصلے کے خلاف فلسطینی قیادت نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے جبکہ اسرائیل نے اس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے سراہا ہے۔

فلسطینیوں کے شدید ردعمل کے بعد اب وائٹ ہاؤس نائب صدر کی صدر محمود عباس سے طے شدہ ملاقات کو منسوخ کرسکتا ہے۔البتہ ایسا وہ اس وقت کرے گا جب فلسطینی صدر خود ان سے ملاقات نہ کرنے کا باضابطہ اعلان کریں گے۔

دریں اثناء مصر کے قبطی چرچ کے روحانی پیشوا پوپ تواضروس دوم نے بھی احتجاج کے طور پر امریکی نائب صدر مائیک پینس سے قاہرہ میں ان کے دورے کے موقع پر ملاقات نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قبطی چرچ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکی صدر نے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرتے وقت لاکھوں عرب عوام کے احساسات اور امنگوں کا خیال نہیں کیا ہے۔چرچ کا کہنا ہے کہ اس صورت حال کے پیش نظر پینس کا ان کے دورہ مصر کے موقع پر استقبال نہیں کیا جائے گا۔

مائیک پینس دسمبر کے دوسرے پندرھواڑے میں کرسمس سے قبل مصر اور اسرائیل کے دورے پر آنے والے ہیں۔ان کا یہ دورہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یروشیلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے فیصلے کے بعد زیادہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔

محمود عباس نے صدر ٹرمپ کے فیصلے کے ردعمل میں کہا ہے کہ اس سے امریکا نے خود کو مشرق وسطیٰ میں مصالحت کار ہونے کے اپنے روایتی کردار سے نااہل کروا لیا ہے۔