.

القدس پرکشیدگی، نیتن یاھو اور ایردوآن کے درمیان الزامات کاتبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو صہیونی ریاست کا صدر مقام تسلیم کیے جانے کے بعد ترک صدر طیب ایردوان اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کےدرمیان تناؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔ دونوں رہ نماؤں نے ایک دوسرے پر دہشت گردوں کی پشت پناہی کا الزام عاید کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے القدس اسرائیل کے حوالے کرنے پر اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

کل اتوار کو اپنے ایک آتشیں خطاب میں صدر ایردوآن نے کہا کہ فلسطینی قوم مظلوم ہے جب کہ اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ انہوں نے کہا کہ القدس کو بچوں کے قاتلوں کے رحم وکرم پر نہیں چھوڑ سکتے۔

ترک صدر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے اقدام کے خلاف ہرممکن کوششیں جاری رکھیں گے۔

تاہم اپنے دورہ فرانس کے دوران پیرس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے ترک صدر کے الزامات مسترد کردیے۔ انہوں نے کہا کہ ترکی میں کردوں پر بمباری کرنے، صحافیوں کو جیلوں میں قید کرنے، ایران کے خلاف پابندیوں میں تہران کی مدد اور غزہ کی پٹی میں دہشت گردوں کی مدد کرنے والے ذمہ دار کو ہمیں اخلاقیات کا درس دینے کوئی ضرورت نہیں۔

خیال رہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان چھ سال تک سفارتی تعلقات تعطل کا شکار رہے اور گذشتہ برس دونوں ملکوں نے سفارتی تعلقات بحال کیے ہیں مگر یہ تعلقات اب بھی کم زور دھاگوں سے بندھےہوئے ہیں۔

بعد ازاں فرانسیسی صدر میکروں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں نیتن یاھو نے کہا کہ اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت صرف اور صرف القدس ہے، اس کے سوا اور کوئی شہر نہیں ہوسکتا۔