.

دنیا کی گراں قیمت پینٹنگ ’سلاوتور مندی‘ کہاں کہاں سے گذری!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ان دنوں ایک عالمی شہرت یافتہ پینٹنگ ’سلاوتور مندی‘ کے چرچے ہیں۔ 45 کروڑ ڈالر میں نیلام ہونے والی حضرت عیسیٰ کی 500 سال پرانی پینٹنگ کوابو ظہبی کے لوو میوزیم میں رکھا جائے گا۔

اس پینٹنگ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے خالق معروف اطالوی آرٹسٹ لیونارڈو ڈا ونچی ہیں۔

فرانس کے لوو میوزیم کی ابو ظہبی میں کھلنے والی شاخ نے ٹوئٹر پر اس پینٹنگ کے بارے میں اعلان کیا۔

یاد رہے کہ 'سلاوتور مندی' یعنی 'دنیا کو بچانے والا' کے نام سے مشہور پینٹنگ کو نومبر میں نیو یارک میں ہونے والی نیلام میں 45 کروڑ ڈالر کے عوض خریدا گیا تھا۔

پینٹنگ کے خالق لیونارڈو ڈا ونچی کی وفات 1519 میں ہوئی تھی اور اب ان کی بنائی ہوئی 20 سے بھی کم پینٹنگز وجود میں ہیں۔

'سلاوتور مندی' کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اسے 1505 میں تخلیق کیا گیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’سلاوتورمندی‘قدیم لاطینی زبان کا لفظ ہے اور اس کے لیے انگریزی میں Savior of the world یعنی دنیا کو بچانے والا کے معنی لیے جاتے ہیں۔

ڈاونچی نے یہ پینٹنگ سولہویں صدی عیسوی میں تیار کی۔ اس میں حضرت مسیح کو بیداری کے زمانے کا لباس زیب تن کیے دائیں ہاتھ کو بلند کیے جس کی دو انگلیاں سبابہ اور وسطیٰ سیدھی ہیں جب کہ بائیں ہاتھ میں ایک کرسٹل بلور کرہ جو کائنات اور آسمان کی علامت ہے دکھایا گیا۔

کپڑے کے دھاگے سے تیار کردہ پینٹنگ پرچاک کی تیار کردہ سیاہی کی مدد سے بنائی گئی اب تک ان کی بیس پینٹنگ دستیاب ہوئی ہیں۔

طویل عرصے تک ڈاونچی کی تیار کردہ پینٹنگ کے بارے میں کا تعین نہ کیاجاسکتا مگر سنہ 2011ء میں پہلی بار لندن کے نیشنل میوزیم میں اس کی پہلی بار ڈاونچی کی تخلیق کے طور پرنمائش کی گئی۔

حال ہی میں پندرہ نومبر کو یہ بیش قیمت پینٹنگ نیویارک میں کریسٹیز کی جانب سے نیلامی کے لیے پیش کی گئی۔ جسے ابو ظہبی نے 45 کڑوڑ 30 لاکھ ڈالر میں خریدلیا۔ کسی پینٹنگ کی اتنی زیادہ قیمت میں نیلام ہونا بھی ایک ریکارڈ ہے۔

ابتدائی قصہ

’سلاوتورمندی‘ نامی یہ پینٹنگ سنہ 1506ء سے 1516ء کے درمیانی عرصے میں تیار کی گئی۔ یہ پینٹنگ فرانس کے بادشاہ لوئسXII، گورنر آن بریٹانی اور فرانس کی ملکہ قرینہ کے لیے تیار کی۔ بعد ازاں یہ پینٹنگ سترھویں صدی عیسوی میں انگلینڈ کے بادشاہ چارلس اول کے کےپاس رہیں۔ نو نومبر 2011ء سے فروری 2012ء تک اسے لندن کے نیشنل میوزیم میں رکھا گیا۔

یہ پیٹنگ 1500ء سنہ عیسوی میں تیار کرنے شروع کی گئی۔ اس کے کچھ عرصے بعد بادشاہ لوئس XIV دوسری اطالوی جنگ میں جنوۃ کے علاقے پر قبضہ کیا۔ اسی عرصے میں آرٹسٹ داونچی 1500ء میں میلانو سےفلورنس منتقل ہوگیا۔

جہاں تک پینٹنگ کے اٹلی سے انگلینڈ پہنچنے کامعاملہ ہے اس کے بارے میں غالب امکان یہ ہے کہ فرانسیسی ہنریٹا ماریا کی شاہ انگلینڈ چارلس اول کے ساتھ 1625ء میں شادی کے بعد یہ پینٹنگ انگلینڈ آئی۔ اس شادی کے بعد ھنریٹا ماریا انگلینڈ کے ساتھ ساتھ اسکاٹ لینڈ اور آئرلینڈ کی بھی ملکہ بن گئی تھیں۔ وہ فرانس کے بادشاہ ہنری چہارم کی بیٹی اور لوئس سیزدھم کی ہمشیرہ تھیں۔

ملکہ کے گھر میں محفوظ

سلاوتورمندی نامی یہ پینٹنگ انگلینڈ کے علاقے گرینچ میں قائم ملکہ ہنریٹا ماریا کے گھر میں ان کے ذاتی کمرے میں محفوظ رہی۔ سنہ 1650ء دوران چارلس اول انگریزوں کی خانہ جنگی کے دوران قتل کردیے گئے اور شاہی نوادرات جن کی اس وقت مالیت 30 آسٹریلوی پاؤنڈ کے برابر تھی لوٹ لی گئیں۔ ان میں یہ پینٹنگ بھی شامل تھی۔

چارلس کی لوٹی گئی قیمتی چیزیں کامنویلتھ انگریز حکومت کی زیرنگرانی نیلام کی گئیں۔ سنہ 1651ء میں یہ پیںٹنگ بھی قرضے کی ادائی کے لیے فروخت کی گئی مگر چارلس دوم نے 1660ء میں دوبارہ واپس لے لیا۔

یہ شاہی پینٹنگ جیمز دوم کی میراث بنی، جس کے بعد کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے محبوبہ کیتھرین سیڈلی کونسٹیزہ ڈورچسٹر کو دے دی۔سنہ 1763ء مین ہربرٹ شیفیلڈ نے یہ پیٹنگ اور اس کے ساتھ کئی دوسرے فن پارے بیکنگھم ہاؤس میں نیلام کیے۔ اسی وقت بیکنگھم بلڈنگ بھی جارج سوم کو فروخت کردی گئی۔

گم شدگی اور ظہور

اس کے بعد طویل عرصے تک ’سلاتور مندی‘غائب رہی یہاں تک کہ برطانوی دولت مند پینٹنگ کلکٹر فرانسیس کوک نے اسے خرید لیا۔ سنہ 1900ء میں اس فن پارے کو ڈوٹی ہاؤس میں شامل کیا گیا۔ اس کے بعد یہ پینٹنگ آرٹسٹوں کی توجہ کا مرکز بنی اور ماہرین نے اس کے خالق ڈاونچی کی دیگر پینٹنٹگز کی تلاش شروع کی۔

یوں ڈاونچی کی تیار کردہ پینٹنگ فرانسیس کوک سے ہوتی ہوئی فرانسیس اول کے پوتے پرونیٹ فور تک جا پہنچی جس نے اسے 1958ء میں 45 آسٹریلوی پاؤنڈز میں نیلام کردیا۔

آخری سفر

سنہ 2005ء میں ’سلاوتورمندی‘ کو نیواورلینز آرٹسٹ تاجروں کی جانب سے نیلام کیا گیا۔ فروخت کنندگان میں رابرٹ سائمن جیسے آرٹسٹ شامل تھے۔ اب کی بار اس میں پیدا ہونےوالی خرابیوں کو دور کردیا گیا تھا اور اس کی مرمت کے بعد دوبارہ اصلی حالت میں منتقل کردیا تھا۔ اس پینٹنگ کی اصلاح کی ذمہ داری ایک مریکی آرٹسٹ ڈیان ڈوایر موڈیسٹینی کو سونپی گئی جس نے جسے ڈاونچی کی پینٹنگ کی مرمت کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

سنہ 2013ء میں روسی ارب پتی دیمتری ربولوفلیف نے یہ پینٹنگ ایک کروڑ 27 لاکھ 50 ہزار ڈالر میں خرید لی۔ انہوں نے یہ پینٹنگ سوئٹرزلینڈ کے فن پاروں کے تاجر ایفا بوویہ سےخرید کی تھی مگر فریقین کے درمیان ایک قانونی جنگ شروع ہوگئی۔

نیویارک میں فروخت کے لیے پیش کرنے سے قبل سنہ 2017ء کے اوائل میں اسے ہانگ کانگ، لندن اور سان فرانسیسکو میں بھی نیلامی کے لیے پیش کیا گیا مگر نیویارک میں ہونے والی نیلامی میں اسے ابو ظہبی نے خرید کیا ہے۔

سلاتورمندی اب تک کی سب سے گراں قیمت پینٹنگ سمجھی جاتی ہے۔ اس سے قبل 11 مئی 2015ء کو نیویارک میں کریسیٹز نیلام گھر میں بابلو پیکاسو’[ویمن آف الجیریا] سب سے مہنگی پینٹنگ قرار پائی تھی جسے 17 کروڑ 94 لاکھ ڈالر میں نیلام کیا گیا تھا۔