.

لبنان میں عراقی ملیشیا کی وڈیو کے سبب کئی سوالات نے جنم لے لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوشل میڈیا پر اتوار کے روز ایک وڈیو گردش میں آئی جس میں لبنان کے ایک قصبے کفر حمام میں حزب اللہ ملیشیا کے عناصر رواں برس اپریل میں عراقی ملیشیا "السلام بریگیڈز" کے ارکان کے ہمراہ نظر آ رہے ہیں۔ مذکورہ بریگیڈز عراقی رہ نما مقتدی الصدر کے زیر انتظام ہے۔ اس سے قبل جمعے کے روز بھی ایک وڈیو سامنے آئی تھی جس میں عراقی ملیشیا "عصائبِ اہلِ حق" کے سکریٹری جنرل قیس الخزعلی کو جنوبی لبنان میں فاطمہ گیٹ وے کے پاس دیکھا گیا۔

اگرچہ اتوار کے روز منظر عام پر آنے والی وڈیو پرانی ہے تاہم بعض لبنانی اس امر پر مشتعل ہیں کہ وڈیو میں ایک رکن کا اس طرح نمودار ہونا یہ واضح کرتا ہے کہ "السلام بریگیڈز" ملیشیا لبنان میں موجود ہے اور اپنے وجود کو پھیلا رہی ہے۔

وڈیو کے ایک منظر میں السلام بریگیڈز کا ایک رکن حزب اللہ کے رکن سے بات چیت کرتے ہوئے کہہ رہا ہے کہ "ہم عراق میں تم لوگوں کی وجہ سے اپنا سر اونچا رکھتے ہیں۔ تم لوگ لبنان کے شیعہ.. پوری دنیا میں شیعوں کی طرف سے کاری ضرب لگانے والی قوت اور ایک پرچم تلے امام مہدی کے منتظر ہیں"۔

اس نوعیت کی وڈیوز پھیلائے جانے کے وقت کے حوالے سے لبنان میں کئی سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہ وڈیوز ایسے موقع پر سامنے آئی ہیں جب کہ امریکی صدر بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر چکے ہیں۔ دوسری جانب لبنان کی حکومت "کنارہ کشی" کی پالیسی اپنانے اور بین الاقوامی قراردادوں پر کاربند رہنے کا اعلان کر چکی ہے۔ ان میں قرار داد 1701 بھی شامل ہے جو جنوبی لبنان میں فائر بندی کو نافذ کرتی ہے۔

علاوہ ازیں یہ سوال بھی سامنے آ رہے ہیں کہ حزب اللہ جیسی ایران نواز ملیشیا ان وڈیوز کے ذریعے کیا پیغام پہنچانا چاہتی ہے۔

دوسری جانب لبنانی قصبے کفر حمام کی بلدیہ نے اپنی حدود میں غیر ملکی مسلح عناصر کی موجودگی کی تردید کی ہے۔ بلدیہ نے باور کرایا کہ مذکورہ وڈیو پرانی ہے اور ساتھ ہی تمام ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ وہ معلومات کی تصدیق کر لیا کریں۔

لبنانی اخبار المستقبل سے رابطے میں کفرحمام کے میئر ہیثم سوید نے وڈیو کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ "رواں سال مئی میں ایک عراقی شہری لبنانی قصبے میں کسی نوجوان کے پاس آیا تھا اور اس دوران یہ وڈیو ریکارڈ کی گئی جو اب گردش میں ہے۔ ہمیں اس وڈیو ریکارڈنگ کی اطلاع ملی تو ہم نے فوری طور پر متعلقہ اقدام کے ذمے دار سکیورٹی اداروں کو آگاہ کر دیا تھا"۔

لبنانی قصبے کی بلدیہ کی جانب سے وضاحتوں کے باوجود وڈیو میں ظاہر ہونے والے دونوں افراد کے لباس کے حوالے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جن پر حزب اللہ کے بیجز لگے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ لبنانی وزیراعظم سعد الحریری نے ہفتے کے روز عراقی ملیشیا الحشد الشعبی کے ایک رہ نما کے حزب اللہ عناصر کے ساتھ جنوبی لبنان کا دورہ کرنے پر سخت نکتہ چینی کی۔ انہوں نے لبنانی سرزمین پر کسی بھی قسم کی عسکری سرگرمی سے خبردار کیا۔

قیس الخزعلی کی وڈیو پھیل جانے کے بعد حریری نے عسکری اور سکیورٹی قیادت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس سلسلے میں مطلوبہ تحقیقات کی جائیں اور لبنانی اراضی پر کسی بھی شخص یا تنظیم کی جانب سے عسکری نوعیت کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

حریری نے الخزعلی کے دورے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے لبنان میں اس کے داخلے کو روکنے کا مطالبہ کر دیا۔