.

میزائل اور قُدس فورس ایران کے سالانہ بجٹ میں اوّلین ترجیحات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رکن پارلیمنٹ اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمد جواد جمالی نے انکشاف کیا ہے کہ نئے سال کے بجٹ میں اوّلین ترجیحات میزائل پروگرام اور قاسم سلیمانی کے زیر قیادت قُدس فورس ہیں۔

نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق جمالی نے کہا کہ مذکورہ ترجیحات کا تعیّن ایرانی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر مرشد اعلی علی خامنہ کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔

جمالی کے مطابق صدر روحانی کی حکومت سے توقع ہے کہ وہ مسلح افواج کی تنخواہوں میں اضافے کی جانب بھی توجہ دے گی جو قانون کے مطابق دیگر سیکٹرں پر قیاس کرتے ہوئے 20% بڑھنا چاہیّے۔

ایران نے باور کرا چکا ہے کہ وہ اپنے میزائل پروگرام اور فیلق فورس کو غیر مسبوق نوعیت کی ترجیح دے گا ، یہ فورس خطے اور پوری دنیا میں اپنی دہشت گردی کی سرگرمیوں کے سبب متنازع حیثیت رکھتی ہے۔ ادھر امریکا اور یورپی اور عرب ممالک یہ باور کراتے ہیں کہ ایران کے بیلسٹک میزائل خطے کے ممالک کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے اپنی پہلی مدّت صدارت کے اختتام پر گزشتہ برس ایران کے ملکی بجٹ میں ایرانی پاسداران انقلاب کے حصّے میں 24% کا اضافہ کر دیا تھا۔ روحانی نے دفاع کے بجٹ میں 14 ارب ڈالر کا اضافہ کر دیا جس کا 53% حصّہ پاسداران انقلاب کو جائے گا۔ پاسداران کی قیادت اعلان کر چکی ہے کہ اس اضافے کا زیادہ تر حصّہ میزائلوں کی تیاری اور ان کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔

ایران کی جانب سے بیلسٹک میزائل پروگرام اور قُدس فورس کی سرگرمیوں کو سپورٹ کی تصدیق بین الاقوامی قرار دادوں کے لیے ایک اور چیلنج ہے۔ بالخصوص یہ پیش رفت اُن بین الاقوامی سرکاری رپورٹوں کے بعد سامنے آئی ہے جن میں حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر داغے جانے والے میزائلوں کے لیے ایران کی سپورٹ کا انکشاف کیا گیا۔