.

نائب صدر سے ملاقات کے فلسطینی بائیکاٹ پر امریکا کا اظہار افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی قیادت کی طرف سے امریکی نائب صدرمائیک پنس سے ملاقات سے انکارکے فیصلے پر وائیٹ ہاؤس نے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے رد عمل میں فلسطینی اتھارٹی کی قیادت کی ناراضی پر امریکی حکومت کو سخت افسوس ہے۔

امریکی نائب صدر کے ترجمان جیروڈ آجین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے نائب صدر مائیک پنس سےملاقات سے انکار باعث افسوس ہے۔ امریکی نائب صدر سے ملاقات سے انکار بات چیت کا بہترین موقع ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ نائب صدر مائیک پنس خطے کے مستقبل پر بات چیت کے لیے علاقائی قیادت سےملنے آ رہے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سےملاقات سے انکار مسئلے کا حل نہیں۔

جیروڈ آجین کا کہنا ہے کہ امریکی انتظامیہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ کرانے میں معاونت جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔ امریکا اب بھی فلسطین۔ اسرائیل تنازع کو سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دیے جانے پر تحریک فتح نے بہ طور احتجاج امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ان کے دورہ فلسطین کے دوران استقبال سے انکار کردیا تھا۔

تحریک فتح کی مرکزی کمیٹی کے رکن جبریل الرجوب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صدر محمود عباس امریکی نائب صدر مائیک پنس سے ان کے انیس دسمبر کو بیت لحم کے دورے کے دوران ان سے ملاقات نہیں کریں گے۔

الرجوب نے دوسرے عرب ممالک پر بھی زور دیا کہ جب تک القدس کے بارے میں امریکا اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کرتا وہ امریکی نائب صدر سے ملنے سے انکار کردیں۔

تحریک فتح کے ایک دوسرے رہ نما عزام الاحمد کا کہنا ہے کہ محمود عباس امریکی نائب صدر سے نہیں ملیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکا کے ساتھ فلسطینی اتھارٹی کے تمام رابطے ختم ہیں۔