.

دادی کی خاطر گردہ بیچنے کی پیش کش کرنے والے مصری بچّے کی حقیقت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام نے پانچویں جماعت کے اُس بچے کی کہانی کی حقیقت بیان کی ہے جس نے اپنی دادی کے علاج کے لیے اپنا گُردہ بیچنے کی پیش کش کی تھی۔

مصر کی سماجی یک جہتی کی وزارت کے مطابق کفر الشیخ میں سکونت پذیر 10 سالہ محمد حامد المحلاوی کی جانب سے اس اقدام کی اطلاع ملتے ہی وزارت کی ایک ٹیم نے اس کے گھر کا رخ کیا۔

تفصیلات جاننے پر یہ انکشاف ہوا کہ محمد کا باپ حامد المحلاوی فوت شدہ نہیں ہے جیسا کہ یہ بچہ دعوی کرتا ہے۔ المحلاوی پیشے کے لحاظ سے ٹیچر ہے اور محمّد اپنے والدین کے درمیان طلاق کے سبب ہر ماہ اپنے باپ کی جانب سے نان نفقے کی مد میں 300 مصری پاونڈ حاصل کرتا ہے۔

وزارت کے مطابق محمد کی 30 سالہ مطلقہ ماں کا نام نورہ سلامہ ہے۔ وہ دوسرے شوہر کی وفات کے سبب بیوہ ہونے کے طور پر ماہانہ 830 پاونڈ الاونس حاصل کرتی ہے جب کہ ساتھ ہی ایک ڈینٹکل کلینک میں ملازمت کے ذریعے 600 پاونڈ تنخواہ کی بھی حق دار ہے۔

جہاں تک محمد کی دادی کا تعلق ہے جس کے علاج کے لیے اس نے اپنے گردے کو بیچنے کا اعلان کیا تھا تو اس خاتون کا نام ہناء احمد عبدالخالق ہے اور اس کی عمر 57 برس ہے۔ وہ العبایدہ نامی گاؤں میں اپنے شوہر سلامہ عبدالعظیم کے ساتھ رہتی ہے جس کا اپنا کیفے ہے۔ مذکورہ دادا اور دادی کے دو لڑکے بھی ہیں جو برسرِ روزگار ہیں۔

وزارت نے یہ بھی بتایا کہ یہ بچہ محمد اپنی دادی کے ساتھ نہیں رہتا جیسا کہ وہ دعوی کرتا ہے۔ بچے کے گھر والوں اور پڑوسیوں نے محمد کی طرف سے گردہ بیچنے کے ارادے کے حوالے سے اپنی لا علمی کا اظہار کیا۔ البتہ محمد سے بات چیت پر اس نے اقرار کر لیا کہ اُس کے ماموں نے یہ بات اس کو سکھائی تا کہ اس طرح شہرت حاصل کر کے مخیر حضرات کی جانب سے مال حاصل کر سکے۔ محمد کے مطابق وہ تو گردہ بیچنے کا مطلب بھی نہیں جانتا۔

اس واقعے نے مصریوں کے دلوں میں ہمدردی پیدا کر دی جب کہ سیٹلائٹ چینلوں اور مصری میڈیا نے محمد کی کہانی کو بڑے پیمانے پر پھیلایا۔ تاہم اب بچّے کے جھوٹ کا پول کھل گیا اور اس کہانی کا بے بنیاد ہونا ثابت ہو گیا۔