.

’آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہوگا‘

فلسطینی صدر محمود عباس کی قاہرہ میں السیسی سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس اورمصری صدر عبدالفتاح السیسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مجوزہ آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دونوں رہ نماؤں نے سوموار کو قاہرہ میں ملاقات کی۔ ملاقات میں امریکی صدر کی طرف سے القدس کو صہیونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کئے جانے اور اس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

مصری ایوان صدر کے ترجمان بسام راضی نے بتایا کہ قاہرہ میں الاتحادیہ محل میں ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر کے اعلان القدس کے بعد تازہ صورت حال پربات چیت کی گئی۔ اس موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کہا کہ ان کے ملک کا فلسطینی ریاست اور القدس کے حوالے سے موقف واضح ہے۔ ہم بیت المقدس کے تاریخی مذہبی اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں اور اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مشرقی بیت المقدس پر اسرائیل کو اپنی اجارہ داری کا کوئی حق نہیں۔ مشرقی القدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔

اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک سال سے قیام امن کے لیے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اٹھائے اقدامات کی تفصیلات بتائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا اعلان القدس حیران کن اور ناقابل یقین ہے۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی اتھارٹی نے تنازع فلسطین کے دو ریاستی حل اور مشرقی بیت المقدس کو القدس کا دارالحکومت بنائے جانے اصولی مطالبات پر بات چیت کے لیے لچک دکھانے کی کوشش کی تھی۔

صدر عباس نے کہاکہ ہمارا دیرینہ مطالبہ ہے کہ اسرائیل جون 1967ء کی جنگ میں قبضے میں لیے گئے فلسطینی علاقے اور مشرقی بیت المقدس خالی کردے۔ یہ علاقے آزاد فلسطینی ریاست کا حصہ ہیں۔ انہوں نے فلسطینیوں کے درمیان مصالحت اور قومی یکجہتی پر زور دینے کے ساتھ ساتھ مصر کے ساتھ صلاح مشورہ جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔

مصری ایوان صدر کے ترجمان نے بتایا کہ صدر السیسی اور محمود عباس کے درمیان ہونے والی بات چیت میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القددس کو خطرناک پیش رفت قرار دیا۔ دونوں رہ نماؤں نے واضح کیا کہ امریکی اقدام کے بعد مشرق وسطٰیٰ میں دیر پا قیام امن کی مساعی بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔ دونوں رہ نماؤں نے امریکی اقدام کے بعد عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم سے کوششیں تیز کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مساعی میں تیزی لانےپر بھی اتفاق کیا۔ صدر عبا اور السیسی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال پر ایک دوسرے سے بات چیت اور صلاح مشورہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔