.

یمن میں تخریبی کردار، ایران پر امریکا کی آئندہ پابندیوں پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی کانگریس میں ان دنوں ایران پر نئی پابندیاں عائد کرنے کے لیے ایک قانونی بِل پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کا سبب یمن میں ایران کے تخریب کار کردار اور اس ملک میں امن و استحکام کو خراب کرنے کے سلسلے میں ایران کی سرگرمیاں ہیں جن میں حوثی ملیشیا کی سپورٹ اور ان کے لیے ہتھیاروں کا بھیجنا شامل ہے۔

کانگریس کی خبروں سے متعلق ویب سائٹ کے مطابق اس قانون کا منصوبہ دو ریپبلکن ارکان کانگریس ایلینا روز اور ٹیڈ بو نے تیار کیا ہے۔ دونوں شخصیات ایوان نمائندگان میں امور خارجہ کی کمیٹی کے سینئر ارکان ہیں۔

ٹیڈ بو نے اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یمن میں جنگ اور شورش میں ملوث ہونے کے سبب ایرانیوں کا احتساب کرنا بہت ضروری ہے۔

امریکی وزارت خزانہ امریکی پابندیوں کے از سر نو جائزے کے طریقہ کار سے متعلق رپورٹ پیش کرے گی جس کا مقصد ایرانی ذمے داران کو بیلسٹک میزائل کی ٹکنالوجی کو بہتر بنانے کے لیے مالی رقوم استعمال کرنے سے روکنا ہے۔

نئی پابندیوں کا سلسلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے پر کاربند ہونے کی تصدیق سے انکار کے چند ہفتوں بعد سامنے آیا ہے۔ کانگریس کو 60 روز کی مہلت دی گئی ہے تا کہ معاہدے کی رُو سے اٹھا لی جانے والی پابندیوں کو دوبارہ عائد کیا جا سکے۔