.

ایرانی سائبر آرمی : "دُور سے" حملے کے لیے تہران کا ہتھیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے وقت میں جب کہ دنیا بھر کی رائے عامہ اور بڑی طاقتیں ایران کے جوہری بحران اور اس کے میزائلوں کے ذخیرے میں الجھی ہوئی ہیں.. تہران نے خفیہ طور پر اپنی سائبر آرمی کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے کام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس پیش رفت کا مقصد اپنے دشمنوں کے خلاف حملوں کی رفتار تیز کرنا اور سائبر جنگ کے میدان میں ایک طاقت ور ترین ملک کی حیثیت اختیار کرنا ہے۔

ایران دُور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی قدرت رکھنے کے نتیجے میں بین الاقوامی سطح پر بالخصوص امریکا کے خلاف خطرے کا ذریعہ ہے۔ روسی ہیکروں اور سائبر ماہرین کے مدد سے تہران نے اپنی سائبر اقدامی اور دفاعی قدرت کو ترقی دینے کے لیے کئی ادارے تیار کیے ہیں۔ اس پیش رفت نے ایران کو روس ، امریکا اور چین کے بعد دنیا بھر میں سائبر سطح پر 5 طاقت ور ترین ممالک کے کلب کا رکن بنا دیا ہے۔

آخری دہائی کے عرصے میں ایرانی نظام ، اس کے جوہری ری ایکٹروں اور پاسداران انقلاب کے اداروں پرسائبر حملوں کے بعد ایرانی نظام نے اپنی اقدامی اور دفاعی سائبر صلاحیتوں کو مستحکم کرنے کی ٹھان لی۔ اس واسطے "سائبر پروٹیکشن ڈوم" قائم کیا گیا تا کہ اندرون اور بیرون ملک معاند طاقتوں کو تہران کی جوہری اور عسکری سرگرمیوں کی نگرانی سے روکا جا سکے۔ اس کے علاوہ ریاستی اداروں کو بیرون ملک ہیکروں کے حملوں سے محفوظ بنایا جا سکے۔

ایران نے اپنے مقامی انٹرنیٹ پروگرام "حلال انٹرنیٹ" کا قیام عمل میں لا کر انٹرنیٹ کے عالمی نیٹ ورک سے مکمل طور پر علاحدگی اختیار کر لی۔

ایرانی حکام نے کئی ٹکنالوجیز اور سافٹ ویئر کے شعبے میں ترقی کا سفر جاری رکھا یہاں تک کہ انٹرنیٹ کے استعمال کے لیے اپنا آپریٹنگ سسٹم تیار کر لیا اور امریکی آپریٹنگ سسٹمز پر انحصار ختم کر دیا۔

سال 2012 میں ایران کی سائبر آرمی نے سعودی عرب کی تیل کی کمپنی ارامکو کو حملے کا نشانہ بنایا۔ تہران نے امریکا پر بھی کئی سائبر حملے کیے ان میں نمایاں ترین کارروائی امریکی بینکنگ اور مالیاتی اداروں کے خلاف تھی۔ ایرانی ہیکروں نے 2012 میں امریکی میرینز کے نیٹ ورک اور 2013 میں میں توانائی کے سیکٹر میں گیس ، پٹرول اور بجلی کی کمپنیوں پر سائبر حملے کیے۔ نومبر 2015 میں ایرانی سائبر آرمی کے حملوں نے ڈاک کے ادارے اور امریکی انتظامیہ کے ذمے داران کے سوشل میڈیا پر اکاؤنٹس کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے بازو کے طور پر ایران کی سائبر آرمی کے قیام سے ایک ایسا مؤثر پلیٹ فارم سامنے آیا ہے جو ایران کے دشمنوں کو نقصان پہنچانے اور ان کے مفادات کو خطرے میں ڈالنے کی تباہ کن قدرت کا حامل ہے۔ اس طرح دیگر ممالک کی سکیورٹی کے لیے خطرہ بننے کے باوجود پاسداران انقلاب خود کو کسی بھی بین الاقوامی قانونی کارروائی سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔