.

یمن : انٹرنیٹ پر حوثیوں کے کنٹرول کا عنقریب خاتمہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت نے بدھ کے روز ایک اعلان میں کہا ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران ملک میں ٹیلی کمیونی کیشن اور انٹرنیٹ کے سیکٹر پر باغی حوثی ملیشیا کا کنٹرول اور اجارہ داری ختم کر دی جائے گا۔

عدن میں ٹیلی کمیونی کیشن ادارے کے ڈائریکٹر جنرل عبدالباسط الفقیہ نے باور کرایا ہے کہ سمندری کیبل کے منصوبے کے ذریعے حوثیوں کی 3 برس سے ٹیلی کمیونی کیشن سیکٹر پر اجارہ داری اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے اس منصوبے پر 5 ارب یمنی ریال خرچ کیے ہیں۔

الفقیہ نے واضح کیا کہ چینی کمپنی "ہواوے" آئندہ دو ہفتوں کے اندر رابطے کا کام مکمل کر لے گی جس کے بعد وزارتِ ٹیلی کمیونی کیشن اپنا کنٹرول ڈپارٹمنٹ صنعاء سے عدن منتقل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔

اس وقت حوثی ملیشیا صنعاء میں سرکاری کمپنی "يمن نیٹ" کے ذریعے انٹرنیٹ کے نظام کو کنٹرول کر رہی ہے۔ حوثیوں نے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں کو یمنی عوام کے لیے بلاک کر دیا ہے۔ اس طرح کی بھی خبریں ہیں کہ حوثی باغی آنے والے دنوں میں انٹرنیٹ کی فراہمی کو مکمل طور پر منقطع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد شہریوں کے خلاف سنگین نوعیت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق اپنے جرائم پر پردہ ڈالنا ہے۔

انٹرنیٹ سروس کو اپوزیشن کی ویب سائٹیں بلاک کرنے کے لیے استعمال کرتے ہوئے ساتھ ہی حوثی ملیشیا ٹیلی کمیونی کیشن اور انٹرنیٹ کے سیکٹر سے 100 ارب یمنی ریال سے زیادہ کی آمدنی کو بھی یمنی عوام کے خلاف جاری "جنگ" کے اخراجات میں پھونک رہے ہیں۔

آئینی حکومت کے ذرائع کے مطابق یمن میں ٹیلی کمیونی کیشن اور انٹرنیٹ کا گیٹ وے عدن میں قائم ہونے کے بعد حوثی باغی اپنی آمدنی کے ایک اہم ذریعے سے محروم ہو جائیں گے۔