.

بشار الاسد کے پاس ضائع کرنے کے لئے وقت نہیں رہا: دی میستورا

امن معاہدہ میں مزید تاخیر شام کی شکست وریخت کا پیش خیمہ ثابت ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں امن مساعی کے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسیٹفن دی میستورا نے روسی صدر ولادیمیر پیوتین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دمشق میں اپنے اتحادی بشار الاسد پر زور دیں کہ وہ جنگ سے تباہ حال ملک شام میں نئے انتخابات کرانے کا حوصلہ پیدا کریں۔

اسٹیفن دی میستورا کے بقول چھ برس پر محیط خانہ جنگی میں صرف بشار الاسد کی فوجی فتح کافی نہیں ہے۔ "امن کی جیت" کے لئے نیا انتخاب کرانا بشار الاسد کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

سوئٹزرلینڈ کے RTS ٹیلی ویژن سے بات کرتے ہوئے دی میستورا کا کہنا تھا کہ اب شام کے اندر ایک ایسے سیاسی عمل کی ضرورت ہے کہ جس میں تمام لوگ شرکت کر سکیں تاکہ نیا دستور بنا کر وہاں نئے انتخابات کا انعقاد ممکن ہو سکے۔

دو ہزار پانچ کے دوران روس نے شام کے تباہ کن تنازع میں شامی فورس کو فضائی اور زمینی مدد دے شرکت کی۔ روس اور شام نے اس تعاون کو بظاہر 'دہشت گرد' گروپوں کی پیش قدمی روکنے کے اقدام سے تعبیر کیا۔

رواں ہفتہ منگل کے روز روسی فوج کا پہلا دستہ ملک واپس ہو گیا کیونکہ اس سے قبل روسی صدر شام میں کافی حد تک اپنے مشن کی تکمیل کا اعلان کر چکے تھے۔ دی میستورا کا کہنا تھا کہ روسی صدر پر لازم ہے کہ وہ شامی حکومت کو یہ باور کرائیں کہ ان کے پاس ضائع کرنے کے لئے مزید وقت نہیں رہا۔