.

سعودیہ میں سینیما کی واپسی سے روزگار کے نئےمواقع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں کئی سال تک سینیما گھروں پر پابندی کے بعد حال ہی میں حکومت نے سینیما کی سرگرمیوں کو بحال کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان کےبعد ماہرین اقتصادیات توقع کررہے ہیں کہ سینیما گھروں کی واپسی سے ملک میں روزگار اور سرمایہ کاری کےنئے مواقع پیدا ہوں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیما گھروں کی بحالی کے نتیجے ٹی وی اور سینیما سےمتعلق شعبوں میں روزگار کے بےپناہ مواقع پیدا ہوں گے۔ فلموں کی تیاری کے لیے سرمایہ کاری کےراستے کھلیں گے۔ مقامی اور علاقائی فلموں کی نمائش بھی شہریوں کو نئے روزگار سے آشنا کرے گی۔ اس کے علاوہ اداکاری، شوٹنگ، فلموں کی پروڈکشن اور کہانی نویسی جیسے نئے شعبے اور فن سامنے آئیں گے۔

سعودی اقتصادی مشیر احمد بن عبدالرحمان الجبیر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سینیما کی سرگرمیوں کی بحالی سے مملکت میں ملازمتوں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ سینیما کی واپسی کے ساتھ کسٹمر سروسز، سیلز، استقبالیہ، آرگنائزیشن، کنٹرول،ٹیکنیکل سپورٹ، امیجنگ، پروڈکشن اور ترجمہ جیسے شعبوں میں ملازمتوں کےمواقع پیدا ہوں گے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سینیما گھروں کی بحالی کے نتیجے میں ملک میں ثقافتی اور ابلاغی سرگرمیوں کو بھی فروغ ملے گا۔ ملک کی اقتصادی ترقی۔ آمدن کے ذرائع بڑھیں گے۔ اقتصادی پروگرام 2020ء اور ویژن 2030ء کے ولی عہد کے پروگرام کو آگے بڑھانے اور اسے کامیاب بنانے میں مدد ملے گی۔

اس کے علاوہ سینیما کی بحالی سے نئے تربیتی ادارے قائم ہوں گے جن میں سینیما، فلم اور ٹی وی پروڈکشن کی مہارتوں سے آگاہی مہیا کی جاتی ہے۔ یوں سینیما گھر ملک میں روزگار اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے۔