.

مصر : قبطیوں کے مذہبی ایام کی آمد سے قبل سکیورٹی ہائی الرٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں حکام نے قبطی عیسائیوں کے کرسمس کی تقریبات کی تیاریوں اور شمالی سیناء میں دہشت گردوں کے ممکنہ حملوں کے پیش نظر سکیورٹی کی سطح ہائی الرٹ کردی ہے۔

وزیر داخلہ مجدی عبدالغفار کے زیر صدارت سکیورٹی حکام کے ایک اجلاس کے بعد وزارت داخلہ نے ایک بیان جاری کیا ہے۔اس میں کرسمس کی تقریبات کے پُرامن انعقاد کے لیے سکیورٹی پلان کی وضاحت کی گئی ہے۔ مصر میں قبطی عیسائی دسمبر کے آخر سے سات جنوری تک کرسمس منائیں گے۔

وزیر داخلہ مجدی عبدالغفار نے بیان میں کہا ہے کہ ’’ شمالی سیناء میں دہشت گردوں کے دھڑوں کے ساتھ مسلح محاذ آرائی کے دوران میں بعض جنگجو شہروں کا رُخ کرسکتے ہیں اور وہاں در انداز ہوسکتے ہیں۔ان کی دراندازی کی کوششوں سے نمٹنے کے لیے زیادہ چوکس رہنے ضرورت ہے‘‘۔

مصر کے شورش زدہ صوبے شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش میں آج اتوار کو دہشت گردوں نے ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ پر حملہ کیا ہے جس کے بعد وزیر داخلہ نے سکیورٹی الرٹ کی سطح انتہائی بلند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اخبار مصر الیوم کے مطابق وزارت داخلہ نے اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ عوامی مقامات اور عبادت گاہوں کے ارد گرد سکیورٹی سخت کی جارہی ہے تاکہ مصری شہریوں کی تعطیلات کے دوران میں گڑ بڑ پھیلانے کی کسی بھی کوشش سے سختی سے اور موقع پر نمٹا جاسکے۔

اخبار نے مزید لکھا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار قبطیوں کے گرجا گھروں کے ارد گرد 800 مربع میٹر کا ایک حصار قائم کریں گے اور حکومت عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے کے لیے دھماکا خیز مواد کا سراغ لگانے والے آلات مہیا کرے گی۔ مصر بھر میں 2326 گرجا گھروں کو سکیورٹی مہیا کی جائے گی اور وہاں مذکورہ سکیورٹی اقدامات کا نفاذ کیا جائے گا۔

یادرہے کہ 2016ء میں قبطی عیسائیوں کی کرسمس تقریبات کے دوران میں دارالحکومت قاہرہ میں قبطیوں کے مرکزی کیتھڈرل کے نزدیک واقع البطروسیہ چرچ میں بم دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 26 افراد ہلاک اور دسیوں زخمی ہوگئے تھے۔

گذشتہ ماہ شمالی سیناء میں واقع مسجد الروضہ میں نماز جمعہ کے دوران دہشت گردوں کے حملے میں 305 افراد جاں بحق اور 128 زخمی ہوگئے تھے۔ سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے اس تباہ کن حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔