.

’دیوار براق‘ اسرائیل کا حصہ:امریکا، دعویٰ بےبنیاد ہے: فلسطین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے فلسطین کے تاریخی شہر بیت المقدس میں واقع مسجد اقصیٰ کے اہم ترین مقام ’دیوار براق‘ کو اسرائیل کا حصہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی نے امریکی دعوے کو بے بنیاد اور تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی نے امریکی حکومت کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے تاریخی مقام ’دیوار براق‘ کو اسرائیل کا حصہ قرار دینے کی شدید مذمت کی ہے۔

العربیہ کے مطابق فلسطینی ایوان صدر کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے کہا کہ دیوار براق کے حوالے سے امریکی حکومت کا موقف ناقابل قبول ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اور فلسطینی حکومت القدس کی حدود اور اس کے دینی اور تاریخی مرتبے پر آنچ نہیں آنے دے گی۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز امریکی حکومت کے ایک عہدیدار نے کہا تھا کہ وائیت ہاؤس ’دیوار براق‘ کو اسرائیل کا حصہ سمجھتا ہے۔

ابو ردینہ نے کہا کہ ہم ایک بار پھر واضح کرتے ہیں کہ موجودہ امریکی انتظامیہ امن عمل سے مکمل طور پر باہر ہوچکی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ دیوار براق کو صہیونی ریاست کا حصہ قرار دینے کا بیان القدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے اور امریکی سفارت خانے کی القدس منتقلی کے غیرقانونی حربوں کا تسلسل ہے۔ امریکی صدر کی طرف سے القدس کے حوالے سے اختیار کردہ پالیسی کو پوری دنیا نے مسترد کردیا ہے۔