.

ایران نواز ملیشیا کے ساتھ کوئی امن عمل نہیں ہو گا: یمنی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی صدر عبدربہ منصور ہادی کا کہنا ہے کہ اُن کے ملک کے عوام اور فوج "ایرانی ملیشیا" کو ہزیمت سے دوچار کرنے کا مصمم ارادہ کر چکی ہے اور اب ایسا کوئی فریق باقی نہیں جس کے ساتھ امن معاہدے تک پہنچا جا سکے۔

ہادی کے مطابق حوثی جماعت خالص ایرانی ملیشیا بن چکی ہے۔ انہوں نے باور کرایا کہ ریاست کے خلاف حوثی ملیشیا کی بغاوت "درحقیقت دہشت گردی پھیلانے اور پڑوسی ممالک اور دنیا کو خطرے میں ڈالنے کے لیے" ایران کے ہاتھ میں موجود وسیلہ ہے۔

منصور ہادی کا یہ موقف یمن کو سپورٹ کرنے والے 19 ممالک کے گروپ کے سفیروں کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آیا۔ یمنی صدر نے ان سفیروں کے سامنے حالیہ پیش رفت اور باغی حوثی ملیشیا کے یمن اور خطے پر دُور رس اثرات سے آگاہ کیا۔

یمنی سرکاری خبر رساں ایجنسی سبا کے مطابق ملاقات میں شریک سفیروں نے آئینی حکومت کے لیے اپنے ملکوں کی سپورٹ کا اظہار کیا تا کہ یمن میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔ یہ قیامِ امن تین مراجع پر مرکوز ہے جن میں سرفہرست سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 ہے اور اس کے علاوہ بغاوت کا خاتمہ اور یمن کی تعمیر نو شامل ہے۔

ہادی نے باور کرایا کہ یمنی اراضی کے مکمل طور پر آزاد کرائے جانے تک عسکری آپریشن نہیں روکا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تین امور کی بنیاد کے سوا کسی نکتے پر کوئی بات چیت یا مشاورت ممکن نہیں۔ یہ تین امور بغاوت کا خاتمہ ، ہتھیار ڈالنا اور ریاستی اداروں کی واپسی ہے۔

یمنی صدر کے مطابق "ایرانی ملیشیا" کے غیر مسلح ہونے سے قبل اُس کے ساتھ کسی بھی قسم کی امن کارروائی وقت کی بربادی اور اس ملیشیا کے لیے مفت کی خدمات کے مترادف ہے۔

ہادی نے باور کرایا کہ اُن کی حکومت ملک میں انسانی صورت حال سے نمٹنے کے لیے سنجیدہ ہے۔

دوسری جانب خلیج تعاون کونسل کے سکریٹری جنرل عبداللطیف الزیانی نے عرب اتحاد کی سپورٹ کے ساتھ یمنی فوج کو حاصل ہونے والی کامیابیوں اور فتوحات پر مبارک باد پیش کی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کونسل کی طرف سے حوثیوں کے ریاض اور مکہ مکرمہ پر میزائل داغے جانے کی کارروائیوں کی سخت مذمّت کی۔