.

اسرائیلی فوجی کو تھپڑ رسید کرنے والی دوسری فلسطینی لڑکی بھی گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوجیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں ایک اور فلسطینی لڑکی کو قابض فوجی کو تھپڑ رسید کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا ہے۔

مغربی کنارے کے شمال میں واقع گاؤں نبی الصالح کے مکینوں نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فوجی اکیس سالہ نوری نجی تمیمی کو گرفتار کر کے لے گئے ہیں۔اس کی کزن سترہ سالہ عہد کو منگل کے روز ان کی والدہ کے ساتھ گرفتار کر لیا گیا تھا۔

ان کی مقبوضہ مغربی کنارے میں قابض فوجیوں کے خلاف احتجاج کے دوران میں ایک ویڈیو منظرعام پر عام آئی تھی۔یہ موبائل فون سے بنائی گئی تھی اور اس میں دو فلسطینی لڑکیوں کو دو اسرائیلی فوجیوں کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے ۔وہ انھیں واپس جانے کا کہہ رہی ہیں اور اس دوران میں وہ ان کی کسی بات پر مشتعل ہوکر انھیں تھپڑ رسید کردیتی ہیں۔

لیکن ان مسلح اسرائیلی فوجیوں نے حیرت انگیز طور پر جواب میں فور ی طور پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی اور وہ پھر وہاں سے واپس چلے گئےتھے۔اس واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد اسرائیلی فوجیوں نے دونوں لڑکیوں کو گرفتار کیا ہے اور انھیں آج بدھ کو ایک فوجی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔

فلسطینی لڑکیوں اور اسرائیلی فوجیوں میں تصادم کا یہ واقعہ جمعہ کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے متنازعہ فیصلے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران پیش آیا تھا اور تمیمی خاندان کے ایک فرد کو سر میں ربر کی گولی بھی لگی تھی۔

فلسطینیوں نے سوشل میڈیا عہد کی منگل کی آدھی رات کے وقت گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے اور اسرائیلی فوج کی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینیوں کو اپنی سرزمین پر اسرائیل کے فوجی قبضے کے خلاف احتجاج کا حق حاصل ہے۔