.

الحدیدہ بندرگاہ امدادی مواد کے لیے کھلی ہے : عرب عسکری اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد نے بدھ کے روز ایک اعلان میں بتایا ہے کہ الحدیدہ کی بندرگاہ امدادی سامان کے لیے ابھی تک کھلی ہوئی ہے۔

اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کی تجاویز پر عمل درامد کے سلسلے میں ایندھن اور غذائی مواد لانے والے تجارتی جہازوں کو تیس روز تک بندرگاہ میں داخلے کی اجازت ہو گی۔

یہ اعلان منگل کے روز حوثیوں کی جانب سے ریاض پر داغے جانے والے ایرانی بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ عرب عسکری اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے منگل کے روز ایک بیان میں بتایا کہ سعودی رائل ایئر ڈیفنس نے یمنی اراضی کے اندر سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل کا پتہ چلا لیا۔ مالکی کے مطابق یہ میزائل ریاض میں گنجان آبادی کے علاقے کی سمت جا رہا تھا کہ اسے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا اور کسی قسم کا نقصان نہیں ہوا۔

عرب اتحاد کے ترجمان نے باور کرایا کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے مملکت کے شہروں کو مسلسل بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایران نواز یہ ملیشیا امدادی کارروائیوں کے لیے کام میں آنے والی بیرونی گزر گاہوں کو یمن کے اندر ایرانی میزائلوں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کر رہی ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

یاد رہے کہ عرب اتحاد نے 22 نومبر کو امدادی سامان کے داخلے کے واسطے الحدیدہ کی بندرگاہ اور صنعاء ایئرپورٹ کو کھولنے کا اعلان کیا تھا۔

یمن میں آئینی حکومت اور سعودی عرب کے زیر قیادت عرب اتحاد کی جانب سے حوثی ملیشیا پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ الحدیدہ کی بندرگاہ کو ایران سے آنے والے اسلحے کی اسمگلنگ کے واسطے استعمال کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ مذکورہ بندرگاہ کو بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے خطرہ پیدا کرنے کے واسطے بطور ایک عسکری اڈے کے بھی استعمال میں لایا جاتا ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ سے بارہا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے کہ وہ اس بندرگاہ کی نگرانی کی ذمے داری سنبھالے۔