.

حوثیوں کو سعودی عرب پر میزائل داغنے سے روکا جانا چاہیے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلامتی کونسل میں امریکی خاتون مندوب نکی ہیلی نے باور کرایا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر داغے جانے والے ایرانی ساختہ میزائلوں کو روکے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات منگل کے روز ریاض کی فضاؤں میں تباہ کیے جانے والے میزائل کے حوالے سے کہی۔ ہیلی نے زور دیا کہ منگل کے روز حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر داغا جانے والا میزائل ایران کی جانب سے پیش کیے جانے والے اُس اسلحے کی چھاپ رکھتا ہے جو سابقہ حملوں میں استعمال کیا گیا۔

امریکی خاتون مندوب نے یہ بات سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس کے دوران کہی۔ یہ اجلاس قرارداد 2231 کے مطابق ایران کی جانب سے جوہری معاہدے کی شقوں پر عمل درامد کے جائزے کے لیے بلایا گیا تھا۔

ہیلی نے خبردار کیا کہ "اگر سعودی عرب کی جانب داغے جانے والے میزائلوں کے حوالے سے ہم نے کچھ نہ کیا تو پھر ہم تشدد کو روک نہیں پائیں گے۔ اس بات کے واضح ثبوت موجود ہیں کہ سعودی عرب میں گرنے والے میزائلوں کا ذریعہ ایران ہے"۔

ہیلی کے مطابق ایران کی معاندانہ کارروائیوں پر روک نہ لگی تو ان میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ انہوں نے باور کرایا کہ تہران پر بین الاقوامی پابندیوں میں اضافے کے لیے ایک نئی بین الاقوامی قرارداد جاری کیے جانے کی ضرورت ہے۔

ادھر اقوام متحدہ میں یورپی یونین کی نمائندہ خاتون نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو زیرِ تحقیق لایا جائے گا۔ یورپی یونین کے مطابق ایرانی میزائلوں کے معاملے سے نمٹنے اور ایران کے جوہری پروگرام کے پُر امن ہونے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ یونین کی نمائندہ نے مشرق وسطی میں تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ جارحیت سے اجتناب برتیں۔

سلامتی کونسل میں مصر کے مندوب نے اپنے خطاب میں مطالبہ کیا کہ ایران ہر اس سرگرمی کو روک دے جس کا منشا خطے میں تنازع پیدا کرنا ہے۔

سلامتی کونسل میں فرانس کے مندوب نے زور دیا کہ ایرانی میزائل سرگرمیوں کو روکے جانے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔