.

فلسطینیوں کا دفاع کرنے والی نامعلوم روسی خاتون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی شہر بیت لحم میں ایک گم نام روسی خاتون بھی فلسطینی شہریوں کے احتجاج میں شامل ہے۔

ایک روسی فوٹو گرافر نے اپنے کیمرے میں ایک ویڈیو بنائی ہے جس میں نامعلوم روسی خاتون کو اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے فلسطینیوں کا دفاع کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔

سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے اس واقعے میں روسی خاتون کو اسرائیلی فوجیوں کو فلسطینی نوجوانوں پر فائرنگ سے روکنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

تصاویر اور فوٹیج میں روسی خاتون کو بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کو ایک دوسرے سے دور کرنے کی کوشش کرر ہی ہے۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب فلسطینی شہریوں کی بڑی تعداد نے بیت لحم میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔

بیت لحم میں موجود یہ روسی خاتون کون ہیں اور ان کی وہاں آمد کا سبب کیا ہے؟ یہ معلوم نہیں ہوسکا تاہم موقع پر موجود ایک شخص نے انہیں ’حاجیہ‘ کہہ کر پکارا۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ مقامی شہر بھی اس کے نام سے واقف نہیں جب کہ ایک دوسرے شخص نے اسے ’مادام کوری‘ کے نام سے پکارا۔ بیت لحم میں ان کی آمد سیاحت کی غرض سے ہوسکتی ہے.