.

کیا سیستانی ایرانی منصوبے کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں 2014 میں شیعہ مذہبی مرجع کی جانب سے داعش تنظیم کے خلاف لڑنے کے لیے "جہاد" کا فتوی جاری کیا گیا۔ اس کے نتیجے میں متنازعہ ملیشیا الحشد الشعبی کی تاسیس عمل میں آئی۔ اس طرح سابق وزیراعظم نوری المالکی کے دورِ حکومت میں مذکورہ دہشت گرد تنظیم کے خلاف لڑائی میں مذہبی مرجع جن میں سرفہرست علی سیستانی ہیں اس کا کردار نمایاں اہمیت کا حامل بن گیا۔ یہاں تک کہ ایران اور اس کی عسکری قیادت نے بھی اپنے زیر انتظام ملیشیاؤں مثلا "بدر" اور "عصائبِ اہل حق" کے ذریعے الحشد الشعبی تک رسائی حاصل کر لی۔ یوں پہلے داعش اور پھر الحشد الشعبی دو ایسی سواریاں بن گئیں جن سے ایران نے عراق اور دیگر عرب ممالک میں اپنے رسوخ کو پھیلانے کے واسطے فائدہ اٹھایا۔ بعد ازاں بدنام ِ زمانہ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی عراق میں مسلح شیعہ ملیشیاؤں کے جھرمٹ میں تصاویر منظر عام پر آئیں۔ یہاں تک کہ ایرانی حکام نے بیان دیا کہ اُنہوں نے چار عرب دارالحکومتوں بغداد ، دمشق ، صنعاء اور بیروت پر قبضہ کر لیا ہے۔

بہرکیف ایرانی امور سے متعلق بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک علی سیستانی کا آخری مطالبہ تہران کے لیے حیران کن ثابت ہوا۔ عراق میں شیعوں کے اولین مرجع سیستانی نے یہ فتوی جاری کیا کہ الحشد الشعبی کے ہتھیار حکومت کے ہاتھ میں ہونا چاہیّں۔ یہ پیش رفت تمام عراقی اراضی کو آزاد کرا لیے جانے اور داعش تنظیم کے خلاف جنگ کے خاتمے سے متعلق وزیراعظم حیدر العبادی کے اعلان کے بعد سامنے آئی۔ ایران نے اس جنگ کی آڑ میں عسکری مشاورت کے بہانے اپنی فورسز کو پڑوسی ممالک میں بھیجا۔

ایرانی تجزیہ کار منصور امان کے مطابق "جس طرح داعش کے ظہور نے ولایت فقیہ کے نظام کو تقویت پہنچائی اسی طرح تنظیم کی ہزیمت اور ڈھیر ہوجانے سے ایران میں انقلاب کے نعرے سبوتاژ سے دوچار ہوں گے۔ داعش کے بعد کے نظام میں فرقہ وارانہ جنگ کی کوئی جگہ نہیں ، اس سمت میں عراق میں جو کارروائی شروع کی گئی تھی اس کے لیے اب علی سیستانی کی شکل میں ایک قوی اور مؤثر مُحرّک موجود ہے۔ عراق اور شام میں داعش تنظیم کے ڈھیر ہو جانے کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ حجت اختتام پذیر ہو گئی جس کو ایران نے گزشتہ تمام عرصے تھامے رکھا تھا۔ بالخصوص جب کہ سیستانی نے الحشد الشعبی کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار ریاست کے حوالے کر دیں اور اپنے عناصر کو اس نام سے کسی بھی سیاسی کردار کی ادائیگی سے روک دیں"۔

تجزیہ کاروں کے نزدیک سیستانی کی جانب سے ہتھیار حوالے کرنے کا مطالبہ عراق کے نمایاں ترین شیعہ مرجع اور ایرانی نظام کے ہمنواؤں کو علاحدہ کر دے گا جو الحشد الشعبی کو ایرانی ایجنڈے کی تکمیل کے واسطے استعمال کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ الحشد الشعبی کی تحلیل سے متعلق سیستانی کا فیصلہ اس ملیشیا کی مذہبی حیثیت کو بھی ختم کر دے گا۔

الحشد الشعبی کے حوالے سے سیستانی کے فتوے کے دو روز بعد عسکری امور سے متعلق ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے مشیر رحیم صفوی نے عراق میں 2018 کے پارلیمانی انتخابات کے نتائج کے حوالے سے اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا۔

صفوی نے فرقہ واریت سے بھرپور غیر مسبوق نوعیت کے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے صراحت کے ساتھ کہا کہ " آئندہ پارلیمان اور عراقی حکومت میں شیعہ عناصر کی تعداد میں کمی ہمارے لیے مسائل پیدا کر دے گی"۔