.

ہم کسی امریکی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے : فلسطینی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ فلسطینی عوام کسی بھی امریکی امن منصوبے کو قبول نہیں کریں گے۔

جمعے کے روز پیرس میں اپنے فرانسیسی ہم منصب امانوئل ماکروں کے ساتھ پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ امریکا اب خطّے میں امن عمل کے واسطے کوئی منصفانہ حل پیش کرنے پر قادر نہیں رہا۔

جمعرات کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی مذمت میں ایک تاریخی قرداد منظور کی۔ رائے شماری کے دوران 128 ممالک نے اس قرارداد کے حق میں جب کہ صرف 9 نے مخالفت میں ووٹ دیا۔

فلسطینی صدر نے باور کرایا کہ سعودی عرب فلسطینیوں کو سپورٹ کرتا ہے اور ان کے امور میں مداخلت نہیں کرتا۔

اس موقع پر فرانسیسی صدر نے زور دے کر کہا کہ دو ریاستی حل کا کوئی متبادل نہیں۔ ماکروں کے مطابق فرانس فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے گا تاہم یہ کسی دباؤ کے تحت نہیں بلکہ مناسب وقت پر ہوگا۔

ماکروں کے خیال میں جمعرات کے روز اقوام متحدہ میں ہونے والی رائے شماری کے بعد بیت المقدس کے معاملے میں امریکیوں کی پوزیشن "کمزور اور کھوکھلی" ہوچکی ہے۔