.

سلامتی کونسل : ریاض پر بیلسٹک میزائل داغے جانے کی پُرزور مذمّت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل نے حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی جانب بیلسٹک میزائلوں کے داغے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔

سلامتی کونسل نے مطالبہ کیا کہ اس ملیشیا پر عائد ہتھیاروں کی فراہمی سے متعلق پابندی پر مکمل عمل درامد کیا جائے۔ کونسل نے خبردار کیا کہ سعودی عرب اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کو بدستور خطرہ لاحق ہے۔

سلامتی کونسل نے ایک مرتبہ پھر یمن کی وحدت ، سیادت اور خود مختاری کے لیے اپنی سپورٹ کا اعلان کیا۔ ساتھ ہی حوثی ملیشیا سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ انسانی امداد کے پہنچنے کے واسطے فوری طور پر اجازت دے۔

کونسل کے بیان میں حوثی ملیشیا کی جانب سے قرارداد نمبر 2216 کی خلاف ورزی کی پُرزور مذمّت کی گئی۔ یہ قرارداد ہتھیاروں کی ترسیل پر مکمل پابندی عائد کرتی ہے۔ بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ حوثی ملیشیا کا بیلسٹک ہتھیاروں پر کنٹرول علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے خطرہ ہے۔ بیان کے مطابق گنجان آبادی والے شہروں کی جانب میزائل داغنا بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور حوثی ملیشیا خطّے کے امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔