.

عرب اتحاد کا حوثیوں پر طبّی اور غذائی امداد لُوٹ لینے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے حوثی ملیشیا پر ویکسی نیشن کی تقسیم میں رکاوٹ ڈالنے اور طبّی و غذائی امداد لُوٹ لینے کا الزام عائد کیا ہے۔

المالکی کی جانب سے یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب بین الاقوامی تنظیم صلیبِ احمر مبینہ طور پر یمن میں دس لاکھ افراد کے ہیضہ سے متاثر ہونے کا اعلان کر چکی ہے۔ ساتھ ہی توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ مارچ اور اپریل میں مذکورہ وبا کی ایک نئی لہر نمودار ہو گی۔

اس سے قبل عرب اتحاد کی قیادت نے بدھ کے روز باغیوں کے زیر قبضہ الحدیدہ بندرگاہ کو امدادی سامان اور تجارتی لوازمات کے پہنچنے کے واسطے بدستور کھلے رکھنے کی اجازت کا اعلان کیا تھا۔

اتحاد کا کہنا تھا کہ وہ یمن کے لیے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے خصوصی نمائندے کی تجاویز پر عمل درامد کے واسطے الحدیدہ کی بندرگاہ کو 30 روز تک کھلی رکھنے کی اجازت دے گا۔

برطانیہ سمیت مغربی ممالک کی حکومتوں نے اس اقدام کا خیرمقدم کیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی جب سعودی عرب میں شاہ سلمان امدادی مرکز کی جانب سے غذائی اشیاء کے 47 ٹرک یمن بھیجے گئے۔ یہ اقدام تعز صوبے کے مختلف ضلعوں میں 76 ہزار سے زیادہ غذائی باسکٹیں تقسیم کرنے کے منصوبے کی ایک کڑی ہے۔

تقسیم کا مذکورہ منصوبہ شاہ سلمان امدادی مرکز کے اُن 166 سے زیادہ منصوبوں کا حصّہ ہے جو یمن کے تمام صوبوں کے لیے تیار اور نافذ کیے گئے۔