.

مصری ٹیلی وژن کی خاتون میزبان ترکی فرار !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری ٹیلی وژن کی خاتون میزبان عزّہ الحناوی حیران کن طور پر تُرکی فرار ہو گئیں۔ "الشرق" سیٹلائٹ چینل کی مجلس عاملہ کے سربراہ ایمن نور نے اپنی ٹوئیٹ میں الحناوی کے چینل کی ٹیم میں شمولیت کی تصدیق کی ہے۔ مذکورہ چینل کی نشریات ترکی کے شہر استنبول سے جاری ہوتی ہیں۔

مصری خاتون میزبان کو گزشتہ دو برسوں سے تحقیقات کا سامنا تھا۔ ان پر ملازمت سے متعلق فرائض کے تقاضوں کے دائرہ کار سے تجاوز کرنے اور انتشار پیدا کرنے کا الزام ہے۔

مصری ٹیلی وژن کے ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو باور کرایا کہ الحناوی کو استغاثہ میں پیش کرنے سے متعلق نوٹس وصول ہوتے ہی خاتون میزبان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیا جانا تھا۔ تاہم وہ اس سے پہلے ہی ترکی روانہ ہو گئیں اور وہاں پہنچ کر الشرق چینل میں شمولیت کا اعلان کر دیا۔

واضح رہے کہ الحناوی کو گزشتہ برس مارچ میں القاہرہ چینل پر اُن کے پروگرام "اخبار القاہرہ" کی ٹیم کے بعض ارکان کے ساتھ تادیبی عدالتی کارروائی کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ ان پر بڑے پیمانے پر ضوابط کی خلاف ورزیوں کا الزام تھا۔

وکلاء کے ذرائع کے مطابق عزّہ الحناوی نے مصری ٹیلی وژن پر صدر عبدالفتاح السیسی کو نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔

خاتون میزبان ترکی کیسے فرار ہوئی ؟

عزّہ الحناوی یلو کارڈ کو استعمال کرتے ہوئے ترکی فرار ہونے میں کامیاب رہیں۔ مذکورہ کارڈ مصر کے ایک سابق وزیر اطلاعات صفوت الشریف کے دور میں نافذ العمل ہوا تھا۔ اس یلو کارڈ کو ٹیلی وژن کے وہ ملازمین حاصل کرتے ہیں جو کسی بھی وقت ملک سے کوچ کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ یہ کارڈ وزارت اطلاعات کی جانب سے ان افراد کے سفر پر آمادگی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح کوئی بھی مرد یا خاتون ٹی وی میزبان ملک کے کسی بھی ادارے سے منظوری حاصل کیے بنا بیرون ملک سفر کر سکتی ہے۔