.

حوثیوں کی خود ساختہ حکومت میں شامل خاتون عہدے دار فرار

نورا الجروی حوثیوں کے چنگل سے نکل کر منصور ہادی کی حکومت میں شامل ہو گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثیوں کی غیر تسلیم شدہ حکومت میں نوجوانوں اور کھیلوں کی وزارت کی سابق سکریٹری نورا الجروی کا کہنا ہے کہ انہوں نے اب آئینی حکومت کے سائے میں پناہ لے لی ہے۔ وہ جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کی مستقل کمیٹی کی رکن بھی ہیں۔

ہفتے کے روز العربیہ کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے نورا نے بتایا کہ سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت اور جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کی قیادت کے ختم کیے جانے کے بعد حوثیوں کی جانب سے خلاف ورزیوں کے ارتکاب میں اضافہ ہو گیا۔ نورا کے مطابق اب تک جنرل پیپلز کانگریس کے 2000 ارکان کو موت کے گھاٹ اتارا جا چکا ہے جب کہ تین ہزار کے قریب گرفتار ہو چکے ہیں۔

نورا الجروی نے کانگریس پارٹی کے تمام ارکان ، ریپبلکن گارڈز اور مرد عورتوں سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ آئینی حکومت اور عرب اتحاد میں شمولیت اختیار کریں اور یمن کو حوثی ملیشیا سے پاک کرنے کے لیے فیصلہ کن موقف اختیار کریں۔

دوسری جانب اسپیشل سکیورٹی فورسز کے سابق کمانڈر بریگیڈیئر جنرل فضل القوسی ہفتے کے روز آئینی حکومت کے ساتھ شامل ہو گئے۔ وہ حوثی ملیشیا کے چُنگل سے فرار ہو کر مارب پہنچے تھے۔ حوثیوں نے القوسی کو اغوا کر کے چند روز بعد صنعاء کے جنوب میں الحداء کے علاقے میں القوسی کو ان کے گھر میں نظربند کر دیا تھا۔

ادھر بیحان کے پہاڑوں میں بائیس ارکان پر مشتمل حوثی ملیشیا کی ایک نئی کھیپ نے خود کو یمنی فورسز کے حوالے کر دیا۔