.

صنعاء کی جانب یمنی فوج کی پیش قدمی میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمنی فوج نے ہفتے کے روز دارالحکومت صنعاء کے مشرق میں نہم کے محاذ پر تزویراتی اہمیت کے حامل ٹِیلے "تبّۃُ القناصین" پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ عسکری ماہرین نے اس پیش رفت کو زمینی طور پر ایک بڑی کامیابی اور دارالحکومت کی جانب پیش قدمی کی سُست روی میں "پاس ورڈ" کریک کرنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

یمنی فوج نے 6 روز سے القناصین کے پہاڑی علاقے کا شدید محاصرہ کر رکھا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں موجود حوثی باغیوں کے لیے کُمک کے تمام راستوں کی ناکہ بندی بھی کر دی گئی۔ فوجی ذرائع کے مطابق ہفتے کے روز ٹیلے پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہاں سے 15 حوثی نشانچیوں کی لاشیں برآمد ہوئیں جو خوراک اور پانی نہ ملنے کے سبب دم توڑ گئے۔

ذرائع نے واضح کیا ہے کہ یمنی فوج نے مذکورہ ٹیلے پر کنٹرول حاصل کرنے کے فوری بعد دارالحکومت صنعاء کی سمت متعدد ٹھکانوں کی جانب پیش قدمی کی۔

زمینی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کنٹرول کے حصول سے یمنی فوج کو عسکری گاڑیوں ، ٹینکوں اور بھاری ہتھیاروں کے استعمال کا موقع مل جائے گا جو اس سے قبل دشوار تھا۔

ادھر سیونتھ ملٹری زون کے سرکاری ترجمان کرنل عبداللہ الشندقی نے ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ یمنی فوج ہفتے کے روز جبال الدشوش ، جبل التفاحہ ، تبۃُ القناصین اور جبل المشنہ کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان معرکوں میں حوثی ملیشیا کے 28 سے ارکان ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

کرنل الشندقی کے مطابق عرب اتحادی طیاروں نے حوثی ملیشیا کے ٹھکانوں اور کُمک پر متعدد حملے کیے جن کے نتیجے میں باغیوں کی دو عسکری گاڑیاں اور دیگر عسکری ساز و سامان تباہ ہو گیا۔