.

موصل میں مابعد از داعش پہلا کرسمس ، گرجا گھروں میں دعائیہ تقریبات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمال شہر موصل میں داعش کے قبضے کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ مسیحی برادری کرسمس کی تقریبات پوری آزادی اور مذہبی جوش وخروش سے منا رہی ہے۔

واضح رہے کہ جون 2014ء میں داعش کے جنگجوؤں کی موصل اور دوسرے شمالی شہروں میں چڑھائی کے بعد ہزاروں عیسائی نقل مکانی کرکے دوسرے علاقوں کی جانب چلے گئے تھے۔ گذشتہ سوا ایک سال کے دوران میں عراقی فورسز نے داعش کے جنگجوؤں کو ان کے زیر قبضہ علاقوں سے لڑائی کے بعد نکال باہر کیا ہے اور اب عیسائی اقلیت سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے گھروں کی جا نب لوٹ رہے ہیں۔

اتوار کو عراق کے چالڈین کیتھولک چرچ کے اسقف لوئی رافیل سکو نے مذہبی اجتماع میں شریک عیسائیوں سے کہا کہ وہ موصل ، عراق اور دنیا بھر میں امن اور سلامتی کے لیے دعا کریں ۔

اس موقع پر مسلمان اور مقامی فوجی حکام بھی مسیحی برادری سے اظہار یک جہتی کے لیے موجود تھے۔چرچ کی دیواروں اور کھڑکیوں کو سفید چادروں سے ڈھانپا گیا تھا ۔داعش کے خلاف جنگ کے دوران میں ان کو شدید نقصان پہنچا تھا اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے تھے۔دیواروں پر داعش کے موصل پر قبضے کے دوران میں تشدد کے واقعات میں ہلاک ہونے والے عیسائیوں کی تصاویر بھی آویزاں کی گئی تھیں۔

کرسمس سے صرف ایک روز قبل چرچ میں اس دعائیہ تقریب کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اس کے باہر سکیورٹی فورسز کی متعدد بکتر بند گاڑیاں کھڑی تھیں۔

فرقاد ملکو نامی ایک عیسائی خاتون کا کہنا ہے کہ موصل شہر میں مسیحی زندگی کے دوبارہ آغاز کے لیے یہ اجتماع بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ بھی جولائی میں عراقی سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں داعش کی شکست کے بعد شہر میں لوٹنے والے ہزاروں افراد میں سے ایک ہیں۔

داعش کے جنگجوؤں نے کم وبیش اٹلی کے برابر عراق اور شام کے علاقوں میں تین سال تک اپنا نظم برقرار رکھا تھا ۔ امریکا کی قیادت میں اتحاد کی مدد سے عراقی فورسز نے اس بڑے جنگجو گروپ کو میدان جنگ میں شکست سے دوچار کیا ہے۔ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے اسی ماہ تین سال سے جاری جنگی مہم میں داعش کے خلاف فتح کا اعلان کیا تھا۔