.

معیشت کی ہمہ جہتی کے دور میں ایران خام تیل سے مزید چمٹ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایسے میں جب کہ تیل برآمد کرنے والے ممالک اپنی آمدنی کے نئے ذرائع اپنانے اور تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے مختلف منصوبوں پر عمل درامد کر رہے ہیں.. ایران کے آئندہ سال کے بجٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنی معیشت میں گزشتہ تین برسوں سے بھی حد تک تیل پر انحصار کرے گا۔

ایران کے آئندہ برس کے بجٹ کا جائزے لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ 35.9٪ متوقع آمدنی تیل کی فروخت سے حاصل ہو گی۔ واضح رہے کہ موجودہ بجٹ میں تیل سے حاصل آمدنی کا تناسب 35% رہا جب کہ 2015 میں 27.3% اور 2014 میں 35.1%. تھا۔

تیل پر یہ بڑھتا ہوا انحصار ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کی تیل کی برآمدات کو مسائل اور حجم میں بڑی حد تک کمی کا سامنا ہے۔ گزشتہ ماہ جنوبی کوریا نے ایران سے اپنی تیل کی درآمدات 2016 کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25.2% کم کر دی۔

اس سے قبل ایرانی نائب وزیر تیل منی لانڈرنگ کے انسداد کے قانون کے حوالے سے مشکلات اور چین کے ساتھ مالی معاملات میں پریشانیوں کا ذکر کر چکے ہیں۔ ایران میں بعض ذرائع ابلاغ نے تو اس امر کو "ایرانی پیٹروکیمیکلز پر چینی پابندیوں" سے تعبیر کیا ہے کیوں کہ ایران کی پیٹروکیمکل مصنوعات میں 40% سے زیادہ حصّہ چین کو برآمد کیا جاتا ہے۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی نے رواں برس اپریل میں اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایران جوہری معاہدے کے بعد برسوں سے آئل ٹینکروں میں ذخیرہ کیے گئے تیل کو فروخت کرنے میں کامیاب ہو گیا تاہم وہ بینکنگ پابندیوں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی کمی کے باعث اپنی برآمدات کو بڑھانے میں دشواری کا سامنا کر رہا ہے۔

پابندیوں کے اٹھائے جانے کے بعد ایران نے اپنی تیل کی فروخت کو دوبارہ سے پرانی سطح پر پہنچانے کی سر توڑ کوشش کی اور وہ تمام تر جمع شدہ تیل فروخت کر کے اس سطح کو یومیہ 36 لاکھ بیرل تک لے جانے میں کامیاب ہو گیا۔ تاہم بڑی کمپنیوں اور عالمی بینکوں نے امریکا کی جانب سے عائد کردہ نئی پابندیوں کے اندیشے کے سبب ایران کے ساتھ منصوبوں اور سرمایہ کاری میں شریک ہونے سے اجتناب کیا۔ اس کے نتیجے میں ایران کو عالمی منڈی میں تیل کی برآمدات میں اپنا حصّہ برقرار رکھنا بھی مشکل ہو گیا۔

یاد رہے کہ رواں برس نومبر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی نوعیت کے پہلے فیصلے میں امریکی حکومت کو ایران سے تیل کی خریداری کم کرنے کے اختیارات دینے کا اعلان کیا تھا۔