.

نشے میں ڈرائیونگ سے 6 افراد کا قتل، سعودی شہری کی سزائے موت پر عمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے صوبے ریاض میں منگل کے روز وزارت داخلہ نے ٹریفک حادثے میں سات افراد کو گاڑی سے روند دینے والے شخص کی موت کے تعزیراتی حکم پر عمل درامد کیا۔ وزارت داخلہ کے بیان کے مطابق اس جرم کا مرتکب سعودی شہری محمد عبداللہ محمد القحطانی ڈرائیونگ کے وقت نشے کی حالت میں تھا۔ اس دوران اُس نے جنونی رفتار سے گاڑی ایک مقامی خاندان کے سات افراد پر چڑھا دی۔ اس کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق اور ایک زخمی ہو گیا۔

جاں بحق ہونے والوں میں سعودی شہری عبدالملک بن سعود الدحيم ، اس کی چار بہنیں حصّہ ، ندى ، نُهى اور عبير اور ایک بھتیجی نورہ شامل ہے جب کہ الدحیم کی ایک اور بھتیجی زخمی ہو گئی۔

بیان کے مطابق سکیورٹی حکام نے مجرم کو گرفتار کر کے مکمل تحقیقات کیں۔ تحقیقات کے بعد اسے عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے مجرم کے اس فعل کو شرعا حرام قرار دیا اور ساتھ ہی اس کو بے قصور اور پر امن شہریوں کے دلوں میں خوف و ہراس اور دہشت پیدا کرنے اور اللہ کی زمین میں فساد پھیلانے کا ذریعہ بھی بتایا۔ لہذا 6 انسانوں کو موت کی نیند سلا دینے والے مجرم کے خلاف عدالت نے تعزیرات کے تحت سزائے موت کا حکم سنایا۔ بعد ازاں شاہی فرمان میں بھی اس فیصلے کی توثیق کر دی گئی۔