.

ایران بیلسٹک میزائل کھول کرحوثیوں کو پہنچا رہا ہے: سعودی سفیر

صنعاء میں موجود ایرانی اور حزب اللہ ماہرین سعودی عرب پر حملوں میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں تعینات سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نےانکشاف کیا ہے کہ ایران حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزائل کھول کر انہیں ٹکڑوں کی شکل میں فراہم کر رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ اسلحہ یمن میں باغیوں کے زیر تسلط الحدیدہ بندرگاہ کے راستے حوثیوں تک پہنچ رہا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی سفیر نے بتایا کہ صنعاء میں حزب اللہ اور ایران کے عسکری ماہرین موجود ہیں جو تہران کی طرف سے پہنچنے والے میزائلوں کو دوبارہ جوڑ کرانہیں استعمال کرنے کے قابل بناتے ہیں جس کے بعد انہیں سعودی عرب کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

آل جابر نے کہا کہ حوثی ملیشیا نے ایران کے اشارے پر باب المندب کے کنٹرول کے حوالے سے سیاسی بات چیت مسترد کردی۔

سعودی سفیر نے ان خیالات کا اظہار قاہرہ میں یمن میں فوجی اور انسانی صورت حال میں پیش رفت کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب میں کیا۔ اس موقع پر عرب پارلیمان کے اسپیکر ڈاکٹر مشعل السلمی بھی موجود تھے۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ یمنی فوج اور اس کے عرب اتحادی صنعاء سے صرف تیس کلو میٹر کی دوری پر ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ سعودی عرب نے یمنی قوم کی تمام انسانی شعبوں میں امداد کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یمن کے حوثی باغیوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں طے پائے سمجھوتوں اور قبائلی معاہدوں سمیت 8 معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کیں۔

انہوں نے بتایا کہ سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کو اس وقت تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کی تھی جب انہیں یہ احساس ہوا تھا کہ یمن میں حوثیوں کی شکل میں ایران کھلم کھلا مداخلت کررہا ہے۔ حوثیوں کو جب اندازہ ہوا کہ علی صالح ان کے مزموم عزائم میں ان کے ساتھ نہیں تو انہوں نے علی صالح کو قتل کردیا۔

اس موقع پر بات کرتے ہوئے عرب پارلیمان کے اسپیکر نے یمن میں ایرانی مداخلت کی روک تھام کے لیے عرب ممالک کی داخلی اورعالمی سطح پر موثر حکمت عملی وضع کرنے کی ضرورت پرزور دیا۔