.

‘اسرائیل کو اپنے تحفظ کا حق‘، لبنانی وزیر کے بیان پر نیا ہنگامہ

حزب اللہ اپنے حلیف وزیر خارجہ جبران باسیل کے بیان پر خاموش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے ایک سرکردہ رکن پارلیمنٹ اور وزیر خارجہ جبران باسیل کے اس بیان پر ایک نیا تنازع پیدا ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کے تحفظ کے حق کے منکر نہیں ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنانی وزیر جو سخت گیر گروپ اور اسرائیل مخالف حزب اللہ کے بھی اتحادی ہیں نے ’ممانعہ‘ ٹی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’میں ذاتی طور پر اسرائیل کے تحفظ کے حق کا منکر نہیں‘۔

صدر میشل عون کے قائم کردہ فریڈم گروپ کے موجودہ سربراہ اور وزیر خارجہ حزب اللہ کے اتحادی مانے جاتے ہیں۔۔

انہوں نے ایک دوسرے ٹی وی چینل ’المیادین‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کےقیام سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اور اسرائیل کے درمیان کوئی نظریاتی اختلاف نہیں اور نہ ہی اس کے وجود کے انکاری ہیں۔ اسرائیل کو بھی اپنےتحفظ کا حق ہے۔ اقوام کو ایک دوسرے کو تسلیم کرنا ہوگا۔ ہم بھی ایک قوم ہیں۔ ہم بھی دوسروں سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے حقوق کو تسلیم کرے مگر جب آپ دوسرے کو تسلیم نہیں کریں گے تو دوسرا آپ کے ساتھ کیسے خوش رہے گا۔ دونوں میں مسائل اسی وجہ سے جنم لیتے ہیں۔

لبنانی وزیر خارجہ کے اس بیان کے پر سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ میں شدید رد عمل سامنے آیا ہے۔ ناقدین نے جبران باسل کے بیان کو اسرائیل کے ساتھ معنوی تعلقات کے قیام کے مترادف قراردیا اور الزام عاید کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ مصالحت کے لیے سہولت کاری کی کوشش کر رہے ہیں۔ بعض نے ان کے بیان کو انتہائی خطرناک قرار دیا۔ بالخصوص ان کے اس بیان کے خوب لتے لیے جا رہے ہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ ہمارا کوئی نظریاتی اختلاف نہیں ہے۔

بعض ناقدین نے استفسار کیا کہ ہے کہ کیا وزیر موصوف اگلے مرحلے میں القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کی حمایت کریں گے۔

عوامی حلقوں اور سوشل میڈیا پر تنقید کے باوجود یہ امر حیران کن ہے کہ ابھی تک اسرائیل ’دشمن‘ تنظیم حزب اللہ کی جانب سے اس پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری جانب باسیل کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر خارجہ کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وزیر خارجہ جبران باسیل کے خلاف جاری اشتعال انگیز مہم کا مقصد انہیں متنازع بنانا اور انہیں بدنام کرنا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کی حمایت میں کوئی ایسی نہیں کی جو لبنان کی مروجہ پالیسی سے ہٹ کر ہو۔