.

ایران میں احتجاج ، سنہ 2009ء کی تاریخ دہرائی جا رہی ہے!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ان دنوں شروع ہونے والے عوامی احتجاج نے ایک بار پھر سنہ 2009ء میں ’تحریک سبز انقلاب‘ احتجاج کی یاد تازہ کردی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران میں جاری موجودہ احتجاجی تحریک کے اسباب اور محرکات سنہ 2009ء کی سبز انقلاب تحریک سےمختلف ہیں اور آج کے مظاہروں میں اختیار کردہ نعرے اور موجودہ حکومتی نظام کے خاتمے کا مطالبہ بھی ایک نیا اضافہ ہے مگر جس انداز میں سنہ دو ہزار نو میں ملک گیر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ اسی طرح آج بھی وسیع پیمانے پر احتجاج جاری ہے۔

ایران کے تمام بڑے شہروں میں دن کے ساتھ رات کے اوقات میں بھی عوامی احتجاج پوری شدت کے ساتھ جاری ہے۔ شمالی شہر رشت میں رات بھراحتجاج جاری رہا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں موجودہ رجیم مخالف نعروں پر مبنی بینرز اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’آزادی ایران‘ آمریت کا خاتمہ، موجودہ صدر حسن روحانی جانب سے اشیائے صرف کی قیمتوں میں اضافے اور شہریوں کی بنیادی معاشی صورت حال کی بہتری کے لیے اقدامات نہ اٹھانے کے خلاف نعرے درج تھے۔

دوسری جانب ایرانی رجیم عوام کے جائز اور اصولی مطالبات پرعمل درآمد کے بجائے سنہ 2009ء کی تحریک کی طرح آج کے مظاہروں کو بھی طاقت کے بل پر کچلنے کی سازش کر رہی ہے۔ گذشتہ دو روز کے دوران ایرانی پولیس نے ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ مظاہرین کو نہ صرف گرفتار کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال بھی جاری ہے۔

موجودہ حکومت کے خاتمہ کے مطالبات

سنہ 2009ء میں ایران میں اٹھنے والی احتحاج کی لہر کے پیچھے اسی سال ہونےوالے صدارتی انتخابات اور ان میں محمود احمدی نژاد کی کامیابی تھی۔ یہ احتجاج اصلاح پسند حلقوں نے شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ملک کے طول وعرض میں پھیل گیا۔ مظاہرین نے صدارتی انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف احتجاج شروع کیا تو حکومت نے عوامی احتجاج کو کچلنے کے لیے اپوزیشن رہ نماؤ میرحسین موسوی اور مہدی کروبی سمیت ہزاروں کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔ اس وقت بھی ہونے والے مظاہروں میں موجودہ حکومت کو ختم کرنے کے مطالبات کیے گئے۔ 28 دسمبر 2017ء کو ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری کے ساتھ ساتھ آمرانہ حکومت کے خاتمے کے لیے بھی ایک بار عوام مظاہرے کررہے ہیں۔

تاہم اس بار عالمی حالات مختلف ہیں۔ سنہ2009ء میں امریکا میں باراک اوباما صدر تھے اور انہوں نے ایران سمیت پورے عالم اسلام کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانا اپنی پالیسی بنا رکھی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ صدر اوباما نے ایران میں مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر خاموشی اختیار کی۔ تاہم موجودہ امریکی حکومت نے ایران کے حوالے سے پالیسی کافی مختلف ہے۔ امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن واضح کرچکے ہیں کہ وہ ایران میں جمہوری نظام کے قیام اور موجودہ حکمران نظام کی تبدیلی کے لیے ہرکوشش کی حمایت کریں گے۔