.

مصری امام مسجد نے حلوان میں چرچ میں المناک قتل عام کیسے روکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل جمعہ کے روز مصر کے علاقے حلوان میں ایک گرجا گھر پردہشت گردوں کے حملوں کے موقع پر مقامی شہریوں نے جرات اور بہادری کے بے مثال کارنامے بھی انجام دیے اور یوں قتل عام کے خونی واقعات سے گرجا گھرکو بچا لیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کوعلی الصباح مارمینا گرجا گھر میں دہشت گردوں کی کارروائی کے دوران مقامی شہری آبادی نے عیسائی شہریوں کے تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کیا۔

علاقے کی ایک مسجد کے موذن نے گرجا گھر پرحملے کے فوری بعد مسجد کے لاؤڈ اسپیکروں سے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ گرجا گھر پہنچیں اور اپنے قبطی بھائیوں کو دہشت گردانہ کارروائی سے بچائیں۔ اعلان سنتے ہی شہریوں کا ایک جم غفیر چرچ کی جانب دوڑ پڑا۔ شہریوں نےپولیس اور امدادی اداروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا نشانہ بننے والےچرچ میں امدادی آپریشن میں حصہ لیا۔

عین دہشت گردی کی کارروائی کے دوران موقع پر پہنچنے والے شہریوں نے اپنے موبائل کیمروں سے تصاویر اور گرجا گھر کی صورت حال کو عوام الناس تک سوشل میڈیاکے ذریعے مطلع کیا۔ پولیس کی فائرنگ سے ایک دہشت گرد کی ہلاکت کی تصاویر نے بھی قبطی عیسائیوں کو یہ احساس دلایاکہ مصری سیکیورٹی ادارے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی میں چوکس ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس نے شہریوں کی مدد کے ساتھ مل کر ایک دہشت گرد کو غیرمسلح کیا، جسے بعد ازاں گرفتار کرلیا گیا۔

پولیس کی کاررائی میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد کے قبضے سے ملنے والے اسلحہ کے ساتھ شہریوں نے سیلفیاں بھی بنائیں اور انہیں سوشل میڈیا پر پھیلا دیا۔

چرچ میں فائرنگ اور بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے شہریوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے میں بھی مدد دی اور جاں بحق ہونے والوں کی لاشیں اٹھائیں۔

خیال رہے کہ حلوان مصر کا تاریخی شہر کہلاتا ہے۔ یہ شہر 868ء میں عبدالعزیز بن مروان کے دور میں بنایا گیا۔ اس کا نقشہ عراق کے شہر حلوان سے مشابہت کی وجہ سے اسے بھی حلوان کا نام دیا گیا تھا۔

گذشتہ روز اس شہر میں مارمینا گرجا گھرمیں دہشت گردی کے ایک واقعے میں حملہ آوروں سمیت دس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔