.

گوئٹے مالا کی جانب سے سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی کا فیصلہ برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

گوئٹے مالا کی وزیر خارجہ سینڈرا خوئیل نے زور دے کر کہا ہے کہ صدر جیمی مورالیس کی جانب سے اسرائیل میں گوئٹے مالا کے سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلے سے رجوع نہیں کیا گیا۔

انہوں نے یہ بات جمعے کے روز ایک تقریب کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یہ تقریب 1996 میں گوئٹے مالا میں خانہ جنگی کے اختتام کی یاد میں منعقد کی گئی تھی۔

سینڈرا کا مزید کہنا تھا کہ "گوئٹے مالا کی حکومت دیگر ممالک کے مواقف کا بہت احترام کرتی ہے لہذا ہم سمجھتے ہیں کہ دوسروں کو بھی گوئٹے مالا کی جانب سے کیے گئے فیصلوں کا احترام کرنا چاہیے"۔

گوئٹے مالا نے 26 دسمبر کو باور کرایا تھا کہ امریکا کی پیروی کرتے ہوئے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا فیصلہ ایک "خود مختارانہ" فیصلہ ہے اور اس سے گوئٹے مالا کے کسی بھی دوسرے ملک سے تعلقات متاثر نہیں ہونا چاہیّں۔

گوئٹے مالا کے صدر مورالیس کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا تھا کہ ان کا ملک اپنا اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرے گا۔ اس طرح گوئٹے مالا امریکا کے اعلانِ قُدس کے نقشِ قدم پر چلنے والا پہلا ملک بن گیا۔

ادھر فلسطینی وزارت خارجہ نے اپنے جواب میں کہا کہ گوئٹے مالا کا فیصلہ "شرم ناک اور قانون کے مخالف ہے"۔

ماضی میں گوئٹے مالا کے سابق صدر رامیرو ڈی لیون کارپیو (1993 اور 1996) نے اپنے ملک کا سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ تاہم اسلامی ممالک کی جانب سے گوئٹے مالا کی مصنوعات کے لیے اپنی منڈیاں بند کر دینے کے بعد اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔