.

اسرائیلی فوجی کو تھپڑ رسید کرنے والی فلسطینی لڑکی پر فرد الزام عاید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے میں دو صہیونی فوجیوں کو تھپڑ رسید کرنے اور ٹھڈے مارے والی ایک فلسطینی لڑکی پر فرد الزام عاید کردی ہے۔

20 سالہ نور تمیمی اور ان کی 16 سالہ کزن عہد تمیمی کی 15 دسربم کو مغربی کنارے میں واقع ایک گاؤں نبی صالح میں دو اسرائیلی فوجیوں سے مڈ بھیڑ ہوئی تھی ۔ان کے مکان کے احاطے میں دو اسرائیلی فوجی آ گھسے تھے اور ان دونوں نے انھیں مکان سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔

مغربی کنارے میں واقع گاؤں بیتونیہ میں اسرائیل کے زیر انتظام عفر جیل میں قائم ایک فوجی عدالت میں ان پر عاید کردہ الزامات کے مطابق فوجی فلسطینیوں کو گاڑیوں پر پتھراؤ سے روکنے کے لیے ایک مکان کے صحن میں گئے تھے۔عہد تمیمی کے خاندان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ ان کے گھر کے صحن میں پیش آیا تھا۔

اس واقعے کی موبائل فون سے بنائی گئی ویڈیو کی انٹر نیٹ پر بھرپور تشہیر کی گئی ہے۔اس میں دونوں فلسطینی لڑکیاں صہیونی فوجیوں کو واپس جانے کا کہہ رہی ہیں ۔ جب وہ وہاں سے نہیں نکلتے تو وہ انھیں تھپڑ رسید کر دیتی ہیں اور ٹھڈے مارتی ہیں ۔ ویڈیو میں عہد تمیمی زیادہ جارح نظر آ رہی ہے۔

لیکن حیرت انگیز طور پر دونوں اسرائیلی فوجی اپنی روایت کے برعکس کسی قسم کے جارحانہ مسلح ردعمل کا اظہار نہیں کرتے۔ تاہم وہ بعد میں عہد تمیمی کی والدہ نریمان کی آمد کے بعد وہاں سے چلے جاتے ہیں۔

نور تمیمی کو اس واقعے کے بعد 20 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔اس کے خلاف ایک فوجی پر اشتعال انگیز حملے اور فوجیوں کے فرائض کی انجام دہی میں حائل ہونے پر فرد الزام عاید کی گئی ہے۔

نو ر تمیمی کو آج سوموار کو عفر میں فوجی عدالت میں پیش کیا جانا تھا اور وہ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ انھیں مقدمے کی سماعت تک زیر حراست رکھا جاسکتا ہے یا نہیں۔عہد تمیمی اور ان کی والدہ کو بھی آج اس فوجی عدالت میں پیش کیا جانا تھا۔ عدالت میں استغاثہ ان کے خلاف فرد الزا م پیش کرسکتا ہے۔

عہد تمیمی کو 19 دسمبر کو اسرائیلی فوجیوں نے گرفتار کیا تھا ۔انھیں فلسطینیوں نے ہیرو قرار دیا ہے۔ وہ اپنی گرفتاری سے قبل بھی مغربی کنارے پر اسرائیلی فوج کے پچاس سال سے جاری قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔