.

تین سال میں عراق میں داعش کے ٹھکانوں پر 14 ہزار فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

دہشت گرد گروپ ’داعش‘ کے خلاف امریکا کی قیادت میں قائم بین الاقوامی عسکری اتحاد نے تنظیم کے خلاف ستمبر 2014ء کے بعد سے اب تک عراق میں کیے گئے حملوں کی تفصیلات جاری کی گئی ہیں۔

عالمی عسکری اتحاد کے ترجمان تھامس فیل نے بتایا ہے کہ ستمبر 2014ء کے بعد عراق میں ’داعش‘ کے ٹھکانوں پر 14 ہزار 100 حملے کیے گئے۔

ترجمان نے بتایا کہ عراق میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں تنظیم کے مراکز پر جنگی طیاروں، بغیر پائلٹ ڈرون طیاروں اور توپ خانے سے بھی بمباری کی گئی۔

خیال رہے کہ نو دسمبر2017ء کو عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے پورے عراق سے داعش کوختم کرنے کے مشن کے اختتام کا اعلان کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کے قبضے سے عراق کے تمام شہروں کو آزاد کرالیا گیا ہے۔

العبادی کا کہنا تھا کہ ہم دہشت گردوں کی واپسی کے خدشات اور امکانات سے آگاہ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔ فی الوقت عراق کو داعش کے چنگل سے آزاد کرالیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلحہ رکھنے کا اختیار صرف ریاستی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ہوگا۔ اب عراق میں قانون کی عملداری اور ملک کی تعمیر وترقی کے لیے اقدامات اٹھانا ہیں۔