.

سعودی عرب : VAT سے مستثنی اشیاء اور خدمات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس VAT کے نفاذ کے طریقہ کار میں چند فرق سامنے آئے ہیں۔ ٹیکسوں سے متعلق مشاورتی فرم "الرکاز" کے چیف ایگزیکٹو عبدالمحسن الفراج نے واضح کیا کہ امارات کے برعکس سعودی عرب میں بعینہ سیکٹروں کو ہیں بلکہ بعض اشیاء اور خدمات کو ٹیکس میں چُھوٹ دی گئی ہے۔

العربیہ نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ادویات ، طبّی ساز و سامان اور انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ ان سب پر "زیرو ٹیکس" ہے۔ جہاں تک بینکوں میں پرافٹ مارجن اور رہائشی پراپرٹی کے کرائے کا تعلق ہے تو وہ ٹیکس سے مستثنی ہے۔

الفراج نے واضح کیا کہ "زیرو ٹیکس" سے مراد یہ ہے کہ کمپنی کو حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی آمدنی اور واپس حاصل شدہ رقم استعمال میں لا سکے۔ البتہ ٹیکس سے مستثنی اشیاء اور خدمات کی صورت میں اخراجات کمپنی کو اٹھانے ہوں گے جس کی تلافی کے لیے آخرکار وہ اپنی قیمتوں میں اضافہ کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ "نجی سیکٹر میں تعلیم پر ٹیکس ہے۔ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ پر زیرو ٹیکس ہے جب کہ مملکت کے اندرون ٹرانسپورٹ ٹیکس کے دائرہ کار میں آتا ہے"۔

بینکنگ خدمات کے حوالے سے الفراج نے بتایا کہ ڈپازٹس پر پرافٹ اور لائف انشورنس ٹیکس سے مستثنی ہے اور بینک کے چارجز 5%. ٹیکس کی صورت میں لاگو ہیں۔

الرکاز کے چیف ایگزیکٹو کا مزید کہنا تھا کہ "رہائشی کرایہ ٹیکس سے مستثنی ہے تاہم جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس کی حد مقرر ہے"۔

الفراج کے مطابق سعودی عرب میں بڑی کمپنیاں نئے ٹیکس نظام کو لاگو کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ البتہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں ابھی تک تیاریوں میں مصروف ہیں۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان باہمی اتصال کا نطام ابھی تک تیار نہیں ہو سکا ہے اسی واسطے اس کے نفاذ کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔