.

غربت نے 4 کروڑ ایرانیوں کو کھوکھلا کر ڈالا ، شہروں کی آدھی آبادی بے روزگار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کچھ عرصہ قبل ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا فضلی نے ایک بیان میں بتایا تھا کہ اگرچہ ملک میں بے روزگاری کی اوسط شرح 12% ہے تاہم ملک کے شہروں میں یہ تناسب 60% تک پہنچ چکا ہے۔

حکومت کی خمینی ریسکیو کمیٹی کے مطابق غربت نے ملک کی تقریبا نصف آبادی یعنی 4 کروڑ افراد کو کھوکھلا کر دیا ہے۔ ان میں 15 لاکھ افراد منشیات کے عادی ہیں جب کہ 6 لاکھ کے قریب فوجداری جرائم کے سلسلے میں جیلوں میں قید ہیں۔

ان حالات میں ایرانی عوام اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ ان کا ملک جو یومیہ تقریبا چالیس لاکھ بیرل تیل پیدا کر رہا ہے اور گیس اور دیگر زرعی اور معدنی وسائل بھی رکھتا ہے اپنی تمام تر دولت ولایت فقیہ کے نظام کی خواہشات اور دنیا بھر میں اپنا کنٹرول بڑھانے کی جنونیت کی بھینٹ چڑھا رہا ہے۔

حکومت کے دو اقدامات نے عوام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ان میں پہلا تو آئندہ برس کے بجٹ میں ایندھن کی قیمتوں میں 50% کا اضافہ اور دوسرا یہ اعلان کہ ملک میں غریبوں کو پیش کی جانے والی امداد جس سے اس وقت تقریبا 3.4 کروڑ افراد مستفید ہو رہے ہیں ، اس کو ختم کر دیا جائے گا۔

علاوہ ازیں ریاستی اداروں میں حدوں کو چھوتی بدعنوانی کے الزامات نے بھی تہران کو مشکل ترین پوزیشن میں ڈال دیا ہے۔