.

ایران کے سرکاری ٹی وی نے احتجاجی مظاہروں میں 12 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں سرکاری ٹی وی نے پیر کے روز بتایا ہے کہ جمعرات کے روز سے ملک بھر میں جاری احتجاجی سلسلے کے دوران اب تک 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ہلاکتیں مختلف شہروں میں ہوئی ہیں۔

سرکاری ٹی وی نے حکومت مخالف مظاہروں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے مناظر پیش کیے۔ حکام کی جانب سے 4 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی تھی اور یہ واضح نہیں کہ بقیہ ہلاکتیں کہاں واقع ہوئیں۔

ایرانی ٹی وی نے یہ بھی بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے پولیس مراکز اور فوجی اڈوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کرنے والے "مسلح مظاہرین" کا حملہ پسپا کر دیا۔

اس سے قبل ایران کے صوبے لرستان کے گورنر ماشاء اللہ نعمتی نے پیر کے روز "اِيلنا" نیوز ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مظاہرین نے اتوار کی شب دورود شہر میں کئی املاک عامہ کو آگ لگا دی۔ فائر بریگیڈز کی گاڑیوں نے ایک بینک میں لگی آگ کو بجھایا۔ ایرانی گورنر کے مطابق انہیں گزشتہ رات شہر میں ہونے والی جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔

ایرانی حکام نے گزشتہ چار روز کے دوران 370 افراد کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا جب کہ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اصل تعداد سرکاری طور پر اعلان کردہ تعداد سے زیادہ ہے۔

اگرچہ سکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والوں کو گرفتاری کی دھمکی دی اور صدر حسن روحانی نے مظاہرین سے پرسکون رہنے کا مطالبہ کیا تاہم اس کے باوجود گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران احتجاج کا سلسلہ وسیع ہو گیا۔ مشہد شہر سے بھڑکنے والی اس چنگاری نے چار روز بعد کئی چھوٹے شہروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

ایران کے دیگر شہروں بالخصوص كرمان شاه ، شاہین شہر ، تاکستان ، زنجان اور ایذج میں بھی احتجاجی مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر نشر ہونے والی وڈیوز میں سرکاری عمارتوں ، مذہبی مراکز ، بینکوں اور باسج فورسز کے مراکز کو حملوں کا نشانہ بنتے ہوئے دکھایا گیا۔

مظاہرین نے پولیس کی گاڑیوں پر بھی حملے کیے اور اُن میں آگ لگا دی۔