.

اسرائیل میں قید فلسطینی رکن پارلیمان خالدہ جرّار کی حراستی مدت میں 6 ماہ کی توسیع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے معروف فلسطینی سیاست دان خالد جرّار کی ٹرائل کے بغیر حراستی مدت میں مزید چھے ماہ کی توسیع کردی ہے۔

خالدہ جرّار کو پاپولر فرنٹ برائے آزادیِ فلسطین ( پی ایف ایل پی) کی سینیر رکن ہونے کے ناتے سے 2 جولائی 2017ء کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ اسرائیل ، امریکا ا ور یورپی یونین نے ان کی جماعت کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔

اسرائیل کے نئے انتظامی حکم کے تحت وہ اب ایک سال تک کسی مقدمے کے بغیر جیل میں قید رہیں گی۔انھیں ایک سال قبل ہی جیل سے رہا کیا گیا تھا۔اسرائیلی حکام نے ان کے خلاف عاید کردہ الزامات کو ابھی تک خفیہ رکھا ہوا ہے ۔

واضح رہے کہ اسرائیلی حکام انتظامی حراستی حکم کے تحت کسی بھی فلسطینی کو کسی الزام یا مقدمہ چلائے بغیر محض شُبے کی بنا پر چھے ماہ تک زیر حراست رکھ سکتے ہیں اور یہ مدت پوری ہونے کے بعد اس میں مزید چھے ماہ کی توسیع کی جاسکتی ہے۔

اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ خالدہ جرّار کی حراستی مدت میں 24 دسمبر کو چھے ماہ کے لیے توسیع کردی گئی تھی کیونکہ سکیورٹی اہلکاروں کی پیش کردہ خفیہ رپورٹ کے مطابق ان سے ابھی تک اسرائیل کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہے۔

پاپولر فرنٹ برائے آزادیِ فلسطین کے بیشتر لیڈر اس وقت اسرائیلی جیلوں میں بند ہیں اور 54 سالہ خالدہ اس سے پہلے بھی متعدد اسرائیلی جیلوں میں قید کاٹ چکی ہیں۔انھیں جون 2016ء میں چودہ ماہ کی قید کے بعد رہا کیا گیا تھا۔انھیں یہ سزا اسرائیلیوں پر حملوں کی حوصلہ افزائی کے الزام میں سنائی گئی تھی۔